جب سے صحافت کا پیشہ اختیار کیا ایک امر تسلی بخش ثابت ہوا کہ ہمارے سیاسی رہنما اظہار خیال کے بڑے شیر ہیں اور جب بھی ان کو موقع ملے یہ بات ضرور کرتے ہیں، ویسے ایک دور وہ تھا کہ سیاسی رہنماﺅں کی یہ ضرورت ہم رپورٹر بھی پوری کرتے تھے۔الیکٹرونک میڈیا کا دور نہیں تھا اور پرنٹ میڈیا کا راج تھا، اس دور میں خبر کی تلاش میں محنت اور بھاگ دوڑ کرنا پڑتی اور اکثر ایسا بھی ہوتا کہ ہم سیاسی رہنماﺅں سے کچھ سننے سے محروم رہتے اور ایسے میں وہ ہمیں پکڑائی نہیں دیتے اور ہم ان سے ہونے والی گفتگو ہی سے معنی نکالتے اور پھر خبر ان سے نیچے والے ذرائع سے حاصل کرلیتے اس دور میں بھی یہ بات نوٹ کی جاتی تھی کہ ہمارے رہنما ایک سی بات کرنے کے عادی تھے اور اکثر ہم یہ بات بھی کرتے کہ اگر ہم خبر کا انٹرو یہ بنائیں کہ آج فلاں رہنما نے فلاں مقام پر جلسے سے خطاب کیا، اس کے بعد یہ لکھیں کہ باقی خبر کے لئے فلاں تاریخ کا اخبار ملاحظہ کریں جس میں سب چھپا ہوا ہے یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آج الیکٹرونک میڈیا کا راج ہے اور مائیک کے سامنے سکرین پر آنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے اس لئے ہمارے رہنما بات کرنے کے لئے دستیاب ہوتے اور پچھلی باتیں دہرا دیتے ہیں اور یہ سب نشر اور شائع بھی ہوتا ہے۔ ویسے بعض الفاظ ہمارے ان محترم رہنماﺅں کے لئے مجموعی تکیہ کلام کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں کثرت استعمال سے جو لفظ گِھس بھی گیا ہے وہ ہے ”ترجیح“ ۔ اس کی بڑی شامت آتی ہے اور اب تو یہ سوچنا یا تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ ”ترجیح“ سے مراد کیا ہے کیونکہ ہمارے محترم رہنماﺅں کے ترجیحی کام پورے ہی نہیں ہوتے اور ہم ”ترجیح اور اولین ترجیح“ سن سن اور لکھ لکھ کر بے حال ہو گئے ہیں لیکن ان حضرات کی ترجیحات ختم ہی نہیں ہو پاتیں اور یہ پرانی بات کو ہی دہرا دیتے ہیں۔
ان دنوں کیا بلکہ ابتداءہی سے تحریک انصاف کی سیاست ملاحظہ کرتے چلے آ رہے ہیں، یہ جماعت بڑی مشکل سے بڑی جماعت کی حیثیت اختیار کر پائی تھی اور اس کے لئے اس جماعت میں ملک کی بڑی جماعتوں میں سے ۔سیاسی کارکنوں اور مقامی رہنماﺅں کے علاوہ بعض بہتر لوگوں کو اس میں جمع کرنا پڑا تھا، خصوصاً پیپلزپارٹی سے اچھے خاصے حضرات تشریف لائے او ر ان میں اپنے اپنے حلقوں کے جانے پہچانے چہرے بھی تھے اور وہ سابق جماعت کے بعد تحریک انصاف کے ٹکٹ پر بھی ایوانوں میں پہنچے اور اعزاز بھی پایا، تاہم یہ حضرات جماعت میں وہ مقام نہ بنا پائے جس کی خاطر پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر آئے، میں اپنے دو دوستوں راجہ ریاض اور رانا آفتاب احمد خان کی مثال دے سکتا ہوں، راجہ ریاض اپنے حلقہ سے منتخب ہوئے اور ان کی پوزیشن بہتر بھی تھی لیکن شاید ان کی خواہشات کچھ بڑی تھیں اس لئے ایک ہی باری چل سکے او راختلاف کے بعد اگلی باری خودپس منظر میں بطور کھلاڑی بیٹھے اور اپنے صاحبزادے کو آگے بڑھا دیا، فیصل آباد سے ایم پی اے رانا آفتاب احمد خان کی تحریک انصاف والوں نے قدر ہی نہیں کی، جب موجودہ پنجاب اسمبلی وجود میں آئی اور اجلاس شروع ہوئے تب رانا آفتاب احمد خان قائم مقام قائدحزب اختلاف کے فرائض سرانجام دینے لگے کہ وہ پی ٹی آئی لاٹ میں سب سے تجربہ کار ہیں، دوبار صوبائی وزیر رہ چکے اور پیپلزپارٹی میں صوبائی (پنجاب) جنرل سیکرٹری اور پھر صدر بھی رہے۔ وہ وکیل بھی ہیں اور قانون و قواعد پر مکمل عبور رکھتے ہیں، لیکن وہ اس عہدے پر مستقل نہ ہو سکے کہ ان کا انداز مدلل اور مہذبانہ تھا وہ بھرپور مخالفت کرتے اور قواعد کے سہارا لیتے تھے۔ شاید ان کی یہی اداپسند نہ کی گئی کہ وہ سخت بات تو کرتے تھے لیکن سلطان راہی جیسی بڑھک نہیں لگاتے تھے، چنانچہ ان کو ہٹا کر احمد خان صاحب کو قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی کی امید پر پورا اترے ہیں، رانا آفتاب اب بیک بینچز ہو گئے۔
اس مثال سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ تحریک انصاف کی مکمل سیاست یوٹرن سے شروع ہو کر بلند بانگ دعوﺅں اور بڑھکوں ہی پر منحصر ہے۔ اسی لئے کے پی کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب شاید زیادہ پسندیدہ ہیں اور ان کے بعد اسد قیصر کا نمبر آتا ہے۔ بیرسٹرگوہر خان کو سنجیدگی کی وجہ سے چیئرمین ہونے کے باوجود وہ مقام نہیں ملا جو ان کا حق ہے شاید وہ بھی قدرے سنجیدہ ہیں۔ ویسے بھی پی ٹی آئی کی سیاست میں بھی نئے پرانے کا تنازعہ موجود ہے۔ ایک تو بڑھ کر مقام لینے والا گروپ ہے تو دوسرابنیادی اراکین والا، جو ہر بات پر اپنا حق جتاتا ہے۔ تحریک انصاف کا ایک المیہ اور بھی ہے کہ اس کے بانی اور فاﺅنڈر کپتان عمران خان نے اپنی ذات کے سامنے کسی کا دیا ہی نہیں جلنے دیا۔ اگر کوئی پارٹی والا بیت الخلاءجانے کے لئے بھی اجازت کا منتظر ہو تو اس کا حال یہی ہوتا ہے جو اب تحریک انصاف کا ہے کہ باہر ہر فرد لیڈر ہے لیکن دیا نہیں جلتا کہ کپتان کی ان سونگ بولڈ کر دیتی ہے۔ پوری قوم نے دیکھا کہ کے پی کے سالانہ بجٹ کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا گیا۔ پہلے منظور کرنے سے انکار کیا اور جب رسائی نہ ملی اور یہ محسوس ہوا کہ بجٹ منظورکیا تو سیاسی شکست اور حکومت کی ناکامی ہوگی جس سے فیصل کریم کنڈی کو موقع مل جائے گا چنانچہ بجٹ منظور کرالیا اور بڑھک ماری کہ سازش ناکام بنا دی، لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ سازش کیا تھی اور کس نے کی۔ پس منظر اور معنوی اعتبار سے یہ الزام تو کپتان پر آتا ہے جنہوں نے اپنی منظوری سے مشروط کر رکھا تھا ،بہرحال جن کا کام ہے وہ جانیں، ہم اس پر کوئی رائے نہیں دیتے۔
چلتے چلتے یہ عرض کر دیں کہ جہاں تک عمران خان کی ہمشیرگان کا تعلق ہے تو چھوٹا بھائی ہونے کی حیثیت سے وہ ان کو پیارے ہیں، اس لئے وہ اپنی طرف سے رہائی کے لئے کوشاں ہیں جبکہ قابض کو یہ پسند نہیں اور یہ جھگڑا بھی پارٹی زوال کا سبب ہے، میں ایک سے زیادہ مرتبہ پہلے بھی عرض کر چکا کہ تحریک انصاف میں بیرسٹر حضرات کی بہتات ہونے کے باوجود آئینی اور سیاسی حل تلاش نہیں کیا گیا اور مسلسل اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست بات ہوگی حالانکہ حکمران اتحاد کی پیشکش موجود ہے اور اب یہ بھی ثابت ہو چکا کہ مقتدرہ براہ راست بات نہیں کرنا چاہتی اور عالمی حالات بھی اس کی فیور میں ہیں، اس لئے اب بھی بہتر ہے کہ حکمران یا حکومت کو ڈیفیکٹو مان کر روابط بڑھا کر حالات سدھار لئے جائیں کہ پھر ثابت ہو گیا کہ ”ایبسولوٹلی ناٹ“ سے کام نہیں چلا۔ سیاست کرنا ہے تو سیاسی مزاج بھی بنائیں۔

