ترکیہ کے مغربی قصبے سِندِرگی میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 3 عمارتیں منہدم

انقرہ (اے ایف پی) ترکیہ کے مغربی قصبے سِندِرگی میں پیر کی شب 6.1 شدت کے زلزلے نے خوف و ہراس پھیلا دیا، جس کے نتیجے میں 3 عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ گزشتہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں اس علاقے میں یہ دوسرا زلزلہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ترکیہ کی ہنگامی امدادی ایجنسی (آفاد) نے بتایا کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 48 منٹ پر آیا، جس کے جھٹکے استنبول اور سیاحتی مرکز ازمیر میں بھی محسوس کیے گئے۔

وزیر داخلہ علی یرلکایا نے بتایا کہ پچھلے زلزلے کے بعد جن 3 عمارتوں اور ایک دکان کو خالی کرایا گیا تھا، وہ حالیہ جھٹکوں کے باعث گر گئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے منگل کے روز ترکیہ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ “پاکستان امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، ہماری دعائیں تمام متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔”

10 اگست کو بھی اسی شدت کا زلزلہ سِندِرگی میں آیا تھا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ قصبہ ازمیر سے تقریباً 138 کلومیٹر شمال مشرق میں ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔

یاد رہے کہ ترکیہ کئی بڑی فالٹ لائنز پر واقع ہے جو ماضی میں تباہ کن زلزلوں کا سبب بن چکی ہیں۔ فروری 2023 میں جنوبی مغربی ترکیہ میں آنے والے بڑے زلزلے نے 53 ہزار سے زائد افراد کی جان لی اور انطاکیہ شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، جب کہ جولائی 2025 کے آغاز میں آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے میں بھی ایک شخص ہلاک اور 69 زخمی ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں