تصوف اور میں ۔ آپ بیتی

کہتے ہیں تصوف میں میں نام کی کوئی چیز ہوتی نہیں اور اسی میں کو مٹانے کی مشق کا نام تصوف ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ عمر گذری ہے اسی دشت کی سیاحی میں کیونکہ زندگی کے تجربات میں کئی اور واقعات وحادثات و سانحات بھی شامل رہے ہیں۔ لیکن تصوف سے لگاؤ شائد خاندانی اور معاشرتی پس منظر کا نتیجہ ہے۔ بچپن سے ہی اولیا کرام اور صوفیہ کرام سے متعلق باتیں سنتا آیا اور تمام سلاسل کے بزرگوں سے عقیدت میرے قلب میں اپنا گھر بناتی رہی۔ حضور اکرم اور اہلِ بیت اطہار سے لگاؤ، عقیدت و محبت و انسیت میری فطرت کا حصہ ہے اور سارے خلفہ راشدین اور حضور کے جاں شاروں و رفقائے حق کی حرمت کا خیال کیسے ممکن ہے کہ جاگزیں نہ ہو۔ اولیا کرام کے واقعات میں البتہ افراط وتفریط ، غلواور ماوراتی قصوں سے پر ہیز بھی اللہ کی ودیعت ہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں تصوف کے چاروں سلاسل اور اس کے شاخسانے کے شیوخ سے ملاقات کا شرف پاکستان و ترکی میں ہوا ، یعنی قادریہ چشتیہ نقشبندیہ اور سہروردیہ مجددیہ ، اوویسیه، الرفاعی و دیگر ۔۔ ان لوگوں کی محفلوں میں بھی باضابطہ شریک ہوتا رہا اور ان کے اذکار جہری و خفی کے رسوم اور پاس انفاس ومراقبات کے عمل اور مشق سے بھی گزرا۔ اور ان مرشدوں سے روحانی خلافت و نسبت و اجازت بیعت بھی عطا ہوئی۔ الحمد الاللہ ۔۔ اللہ سبحان تعالیٰ ور رسول ﷺ سے محبت اور قربت کے حصول کے ذرائع ہیں یہ سب ۔ ذکر الہی کے ساتھ خلق اللہ کی خدمت ہی بہترین عمل ہے اللہ کی قربت کے حصول کا، جس کا بہترین اور سب سے افضل نمونہ حضوراکرم کی ذات وسیرت مبارکہ ہے۔ اُن کی سیرت و ہدایت سے الگ ہر راہ میں گھر ہی پوشیدہ ہے چاہے کتنی بڑی شخصیت و کرامات و عالی شان خانقاه و درگاہ کا شہرہ کیوں نہ ہو۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ اس پاک شعبہ تربیت میں کئی مداریوں نے بدعات اور خرافات سے اسے ناپاک اور پلید کر ڈالا ہے جس کا علاج قرآن و مستند احادیث و سنت و سیرت رسول ﷺ کا طواف ہے۔ چند نا تجربہ کار ، لا علم و جاہل شعبدہ باز کے گھس آنے پر روحانی تزکیہ وتربیت کا یہ سلسلہ معتوب نہیں ہو جاتا ۔ جیسے کہ کسی بھی شعبہ میں جہلا اگر نام و نمود و مال و دولت سمیٹنے یا نذرانے کے خاطر علم و تقویٰ کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر اپنی دکان سجا لیں تو اس شعبہ کی اہمیت کم نہیں ہوتی ۔ اصلاح و تجدید دین کا عمل تو جاری رکھنا ہی چاہیے ۔ تصوف کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔ میری کتاب آگہی میں میرا مضمون بھی دیکھ لیا جائے۔