جمہوریت اور آمریت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آمریت کے نظام میں فیصلے ایک فرد کرتا ہے جبکہ جمہوری نظام میں فیصلوں کے لئے بات چیت، بحث اور دلائل کی گنجائش رکھی گئی ہے، ایسا جہاں بھی ہوتا ہے، وہاں ترقی کے راستے نکلتے اور عوام کے لئے بھی سہولت ہوتی ہے اس لئے بحث کو روکنا درست نہیں ہوتا، لیکن شرط یہ ہے کہ بحث بھی حقائق اور تہذیب کے دائرے میں رہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ رسم بن ہی نہیں سکی اور ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے مطابق مرغا بغل میں دبائے پھرتا ہے کہ سحر ہونے ہی نہیں دے گا، اس سے حالات مثبت سمت اختیار نہیں کرتے اور مسائل و تنازعات ختم نہیں ہوتے۔ اس کی بہترین اور ثابت شدہ مثال بھی ہمارا پیارا پاکستان ہے جس میں بات ہوتی ہے لیکن ہر کوئی اپنی اور اپنے لئے کرتا ہے۔ دوسرے کو سننے کا موقع ہی نہیں دیتا، یہی صورت حال ان دنوں بھی ہے بلکہ پہلے سے بدتر ہو چکی کہ ملک میں مختلف نوع کی تقسیم اس حد تک بڑھ چکی کہ ہم کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں، چہ جائیکہ دلیل سنیں اور دلیل سے جواب بھی دیں تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔
ہمارا ملک ان دنوں سیلاب کی زد میں ہے۔ تاریخ کا بدترین سیلاب کہلاتا ہے۔ لاکھوں ایکڑ اراضی اور فصلیں دریابرد ہو گئیں،پورے ملک میں لوگ بے گھر ہوئے۔ مال و اسباب بہہ گئے مویشی کھو گئے اور لوگ کھلے آسمان تلے آ گئے۔
ماضی میں جب کبھی بھی ایسی پریشانی ہوتی تو لوگ اجتماعی اور انفرادی طور پر میدان میں نکل آتے اور مداوا کرتے تھے لیکن افسوس کا مقام ہے ہمارے محترم نسیم شاہد کے بقول سیلاب تو آیا ہے کہ ٹھگ بھی میدان میں آ گئے ہیں اور وہ اپنے گھر چھوڑ کر متاثرین کے کیمپوں پر قبضہ جما چکے، جبکہ بیسیوں ایسے گھرانے ہیں جو عزت اور غیرت کی خاطر لٹ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس آ گئے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر لکھا کہ حقیقی متاثرین اور ٹھگ مافیا کے درمیان تمیز کے لئے بڑی سوجھ بوجھ اور تکنیکی طریقے سے جانچ پڑتال ضروری ہے۔
بات کچھ اور کررہا تھا نکل کہیں اور گئی۔میں نے قومی تقسیم کا ذکر کیا جس کا الزام ایک معتوب سیاسی جماعت پر ہے اور اس میں بڑی حد تک حقیقت بھی ہے لیکن ذرا غور کریں تو یہ بلا آج گلے نہیں پڑی، اس سے تو ہم 1951ء کے بعد سے نبردآزما ہیں تب سے لسانیت، علاقائیت اور صوبائی تعصب کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تقسیم سے بھی نبردآزما ہیں، اسی لئے اس بار جو مصیبت آئی اس میں عجیب کیفیت ہو گئی۔ یہ سب تعصبات اپنی جگہ ابھرکر سامنے آ رہے ہیں تو دکھ یہ بھی ہے کہ ماضی کی طرح ہم قومی سطح پر بھی متحرک نہیں ہوئے۔ہر طرف حکومت اور مسلح افواج کی خدمت کا ذکر ہے اور جو فلاحی تنظیمیں امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں، میڈیا میں ان کا ذکر نہیں ملتا، میں الزام تراشی کئے بغیر یہ عرض کروں گا کہ یہ سب صحافت کے بھی بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیے اور حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیے۔
میں نے آج جس موضوع کو چھیڑا وہ بڑا اہم ہے لیکن خیالات بھٹک جاتے ہیں کیونکہ پریشانی ہی اتنی بڑی آئی ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا، خیر مجھے بات کرنا تھی، ایک انتہائی معقول مسئلہ پر فضول بحث کی کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے شہد والی انگلی لگا دی۔ وہ ایسا کئی بار اور کتنے ہی معاملات میں کر چکے اور ہم اپنا کان نہیں دیکھتے، اس بار انہوں نے ایک ایسے دیرینہ منصوبے کا ذکر کر دیا جو تعصب کی لہر میں بہہ چکا ہوا ہے، انہوں نے ڈیموں کی ضرورت کی بات کرتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی بات کر دی اور یوں یہ بات شہد والی انگلی ثابت ہوئی اور طوفان برپا ہو گیا، لنگر لنگوٹ کس لئے گئے اور ماضی کی طرح میری لاش سے گزر کر بننے کا ذکر ہونے لگا، یہ درست ہے کہ کالاباغ ڈیم (جو ایک قدرتی ڈیم کے لئے انتہائی موزوں تر ہے) پر سخت قسم کے تحفظات اور بحث ہو کر یہ منصوبہ بھی یاد ماضی کی صورت اختیار کر گیا اور اس دور کے جب ڈالر دس۔گیارہ روپے کا تھا کروڑوں روپے اور قیمتی مشینری بھی ضائع ہوگئی۔
قارئین! کالاباغ ڈیم کی تاریخ بڑی بدقسمت ہے اور اسے متنازعہ ذاتی مقاصد اور مخالفت کے لئے بنایا گیا، یہ ڈیم تعمیر کے ابتدائی مراحل طے کررہا تھا، مشینری اور محنت کش کام کر رہے، ضیاء دور تھا، اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر، جنرل فضل حق تھے، کسی وجہ سے ان کے اور ضیاء الحق کے درمیان مخاصمت ہو گئی تھی، جنرل فضل حق نے ازخود یا کسی کے کہنے پر گورنر ہاؤس پشاور میں جنرل ضیاء کی موجودگی میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر دی اور قرار دیا کہ اس کی تعمیر سے صوبہ سرحد کو بہت نقصان ہوگا اور کئی شہر ڈوب جائیں گے۔ ان کی یہ مخالفت شعلہ ثابت ہوئی اور پھر سرحد کی قوم پرست جماعتوں اور سندھ سے سیاسی جماعتوں نے بھی مخالفت کر دی۔کوئی بھی اس ڈیم کی حمائت کرنے پر تیار نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے چاروں صوبوں سے ماہرین کی کمیٹی بناء کر اس کی سفارشات لینے پر رضامندی دی اور یوں یہ مسئلہ اتنا تلخ ہو گیا کہ ڈیزائن میں تبدیلی، چار فٹ تک اونچائی کم کرنے کی تجویز بھی نہ سنی گئی اور بالآخر یہ منصوبہ دب کر ہی رہ گیا اور اب علی امین گنڈا پور نے پھر سے بات کرکے شہد والی انگلی لگا دی، حالانکہ اس کے علاوہ بات دوسرے پہلو سے بھی ہوئی اور ہو رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نے بروقت ڈیم نہیں بنائے اور اب تو بنا ہی لینا چاہئیں،اس بحث میں ایسی ایسی باتیں سننے کو ملیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانا پڑے، ہر دو طرف سے معقول دلیل پر غور کئے بغیر محض اپنی مخاصمت کے تحت بات کی گئی۔ ڈیم تعمیرکر لینے کے حامی حضرات نے سیلاب کی روک تھا م کے لئے بھی ڈیموں کی تعمیر لازم قرار دی جبکہ مخالفین نے کسی معقول دلیل کے بغیر یہ کہہ کربات رد کر دی کہ حالیہ سیلاب نے ثابت کیا کہ بھارت کئی ڈیم بنا کر بھی پانی نہیں سنبھال سکا اس لئے ڈیم سیلاب نہیں روک سکتے۔ یوں فریقین اپنی اپنی بات پر ڈٹ گئے ہیں اور فی الحال یہ بات بھی دب گئی حالانکہ موقف دونوں فریقوں کا درست ہے لیکن عمل کے حوالے سے غیر معقول ہے۔ نئے ڈیموں کی ضرورت بے شک اور لازم ہے اور یہ پانی سٹور کرنے کے لئے ہے۔ اس سے سستی بجلی بھی پیدا ہوگی، جہاں تک کسی بڑے سیلاب کا تعلق ہے تو درست کہ ڈیم بھر جانے کے بعد بھی پانی چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اس کی شدت براہ راست والی نہیں رہتی، اسی حوالے سے دریائی راستے بہتر بنانے اور دریا کی راہ سے رکاوٹیں دور کرنے کی تجویز بھی بہت بہتر ہے اس لئے ہر دو کو ملا کر غور کرنا اور مستقبل کا انتظام کرنا ہوگا، اب مخالفت برائے مخالفت ترک کرکے ملک اور مستقبل کے لئے سوچیں، ایک عرض کروں چین ہمارا بھائی ہے، ہمیں اس سے سیکھ لینا چاہیے جس نے بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ ہزاروں چھوٹے ڈیم بھی بنا رکھے ہیں، لیکن کیا کریں، بقول حبیب جالب:
چین اپنایار ہے،اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام، اس کو دور سے سلام

