اوٹاوا/نئی دہلی(رائٹرز/نمائندہ خصوصی) بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں نئے ہائی کمشنرز کی تقرری کا اعلان کیا ہے، جسے تعلقات کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
“تعلقات کی کشیدگی کی وجوہات”
یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اُس وقت شدید کشیدہ ہو گئے تھے جب سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھارت پر عائد کر دیا تھا۔ ہردیپ سنگھ نجر کو، جسے بھارت نے 2020 میں دہشت گرد قرار دیا تھا، جون 2023 میں وینکوور کے قریب ایک گردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سفارتی بحران شدت اختیار کر گیا۔ کینیڈا نے بھارتی ہائی کمشنر سمیت چھ سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا جبکہ بھارت نے بھی چھ سینئر کینیڈین سفارتکاروں، جن میں قائم مقام ہائی کمشنر بھی شامل تھے، کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
“سفارتی تعلقات کی بحالی”
اکتوبر 2024 سے کینیڈا میں بھارتی ہائی کمشنر کی نشست خالی چلی آ رہی تھی۔ جون 2025 میں نئی کینیڈین قیادت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی پہلی دوطرفہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے سینئر سفارتکاروں کو دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔
کینیڈا کی وزارت خارجہ کے مطابق خالی ہائی کمشنر کا عہدہ اب تجربہ کار سفارتکار کرسٹوفر کوٹر سنبھالیں گے۔ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ یہ تقرری کینیڈا کے ’’مرحلہ وار رویے‘‘ کی عکاسی کرتی ہے، جس کے ذریعے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنے اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ اس کے نئے ہائی کمشنر دنیش کے پٹنائک جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
“پس منظر اور مستقبل کی سمت”
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا پر انحصار کم کرنے کیلئےتجارتی تعلقات میں تنوع لانا ضروری ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔یہ تقرریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جس سے خطے میں تجارتی تعلقات اور زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

