جاپان میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہوگیا

ٹوکیو (رائٹرز) — وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا کے استعفے کے اعلان کے بعد دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جاپان میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل غیر معمولی طور پر پیچیدہ ہوگیا ہے۔ حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اس کی اتحادی جماعت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکی ہیں، جس کے بعد نئے وزیراعظم کا انتخاب یقینی نہیں رہا۔

رائٹرز کے مطابق، سب سے پہلے ایل ڈی پی کو اپنا نیا صدر منتخب کرنا ہوگا جو شیگرو ایشیبا کی جگہ لے گا۔ انتخاب کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ گزشتہ انتخاب میں امیدواروں کے لیے شرط رکھی گئی تھی کہ وہ پارٹی کے 20 قانون سازوں کی نامزدگی حاصل کریں۔ اس کے بعد ملک بھر میں مباحثے اور انتخابی مہم چلائی جاتی ہے، جس میں پارلیمانی اراکین اور عام پارٹی کارکنان ووٹ ڈالتے ہیں۔

گزشتہ بار نو امیدوار سامنے آئے تھے اور شیگرو ایشیبا نے رن آف میں کامیابی حاصل کی تھی۔ پہلے مرحلے میں ہر قانون ساز کو ایک ووٹ حاصل ہوتا ہے جبکہ عام پارٹی اراکین کے ووٹ بھی مساوی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار سادہ اکثریت نہ لے سکے تو رن آف کرایا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں صرف قانون ساز ووٹ دیتے ہیں جبکہ عام اراکین کے ووٹ 47 رہ جاتے ہیں، یعنی ہر صوبے کیلئےایک ووٹ۔ اگر ووٹ برابر ہو جائیں تو قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔

چونکہ ایل ڈی پی اب کسی بھی ایوان میں اکثریت میں نہیں ہے، اس لیے اس بات کی ضمانت نہیں کہ پارٹی کا صدر خود بخود وزیراعظم بن جائے گا۔ ماضی میں 1994 میں ایل ڈی پی نے جاپان سوشلسٹ پارٹی اور ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ اتحاد کر کے سوشلسٹ رہنما تومئیچی مرایاما کو وزیراعظم منتخب کروایا تھا۔

روایات کے مطابق، ایوان زیریں (لوئر ہاؤس) پہلے وزیراعظم کے انتخاب کیلئےووٹ ڈالتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار سادہ اکثریت لے لے تو وہ منتخب ہو جاتا ہے، ورنہ سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان رن آف ہوتا ہے۔ اس کے بعد ووٹنگ ایوان بالا میں بھی ہوتی ہے لیکن فیصلہ کن حیثیت ایوان زیریں کے ووٹ کو حاصل ہوتی ہے۔

ایسا 2008 میں بھی ہوا تھا جب ایوان زیریں نے ایل ڈی پی کے امیدوار کو چنا جبکہ ایوان بالا نے اپوزیشن امیدوار کی حمایت کی، مگر بالآخر زیریں ایوان کا فیصلہ غالب آیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نئے وزیراعظم کے سامنے فوری طور پر عام انتخابات کرانے (Snap Election) کا اختیار ہوگا تاکہ قومی مینڈیٹ حاصل کیا جا سکے۔ جاپان میں قیادت کا یہ بحران نہ صرف ملکی سیاست بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں