جرمنی میں تیز رفتار گاڑی ہجوم پر چڑھانے کا ایک اور واقعہ پیش آگیا

جرمنی میں تیز رفتار گاڑی ہجوم پر چڑھانے کا ایک اور واقعہ پیش آگیا۔غیرملکی ایجنسی کے مطابق مغربی جرمنی کے شہر مین ہائیم میں ڈرائیور نے تیز رفتار گاڑی سے کئی افراد کو کچل کر دیا۔کار کے ہجوم سے ٹکرانے سے2افراد ہلاک اور 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے ترجمان اسٹیفن ولہیم نے بتایا کہ پیر کے روز ایک ڈرائیور نے مانہیم کے پیدل چلنے والے علاقے کے ایک چوک پیراڈپلاٹز میں لوگوں کے ایک گروپ سے گاڑی ٹکرا دی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایک مجرم کو گرفتار کیا گیا ہے ہم ابھی تک اس بارے میں معلومات نہیں دے سکتے کہ آیا مزید کتنے ملزمان ہیں۔

یہ واقعہ کرسمس اور کیرنوال کی تعطیلات کے دوران پیش آیا، جس سے شہر میں سیکیورٹی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں.اسی دوران، من ہیم کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر بھی ایک اور تشویشناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے امدادی کارکنوں پر حملہ کیا پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا اور اس پر جسمانی تشدد اور حملے کے الزامات عائد کیے.

Paradeplatz، شہر کے مرکز کے علاقے کا ایک بڑا چوک ہے اس شہر کی آبادی 3لاکھ 26ہزارہے اور یہ فرینکفرٹ سے 85کلومیٹر جنوب میں واقعہ ہے۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹ کے مطابق، مین ہائیم یونیورسٹی ہسپتال نے کہا کہ وہ ممکنہ بڑے پیمانے پر ہلاکت کے واقعے کیلئے تیار ہے۔ ہسپتال نے زخمیوں کی دیکھ بھال کی تیاری کیلئے اپنے ڈیزاسٹر اور ایمرجنسی پلان کو نافذ کر دیا ہے۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیر لیا اور 40 سالہ مشتبہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے ڈرائیور رائن لینڈ-پالٹینیٹ کا رہائشی ہے لیکن حکام ابھی تک یہ واضح نہیں کر پائے کہ یہ ایک حادثہ تھا یا دانستہ حملہ کیاگیاہے.

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ حملہ تھا یا حادثہ پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ قیاس آرائیاں نہ کریں اور تحقیقات میں تعاون کریں حکام نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ممکنہ دہشت گردانہ محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں