جرمنی :مختلف سنگین جرائم میں سزا یافتہ 81 افغان شہری ملک بدر

برلن(اے ایف پی / نمائندہ خصوصی) جرمنی نے مختلف سنگین جرائم میں سزا یافتہ 81 افغان مردوں کو طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان واپس بھیج دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق ان افراد کو خصوصی طیارے کے ذریعے 18 جولائی کی صبح ملک بدر کیا گیا۔

یہ اقدام جرمن چانسلر فریڈرش میرس کی حکومت کی امیگریشن پالیسی میں سختی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے وضاحت کی کہ ان تمام افراد پر عدالتی مقدمات کے بعد ملک بدری کے احکامات جاری کیے جا چکے تھے۔

جرمن وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے یورپی وزرائے داخلہ کے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے کہا”سنگین جرائم میں ملوث افراد کو جرمنی میں رہنے کا کوئی حق نہیں، ملک بدری کا یہ عمل آئندہ بھی محفوظ طریقے سے جاری رہنا چاہیے۔”

جرمنی کی طالبان حکومت سے براہِ راست سفارتی روابط نہ ہونے کے باوجود قطر کے ذریعے بالواسطہ رابطے قائم کیے گئے، اور حالیہ ملک بدری آپریشن میں بھی قطر نے تعاون فراہم کیا۔

یاد رہے کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغان شہریوں کی ملک بدری عارضی طور پر روک دی تھی۔ کابل میں جرمن سفارت خانہ بند ہونے کے بعد 2023 میں پہلی بار دوبارہ ملک بدری کا آغاز کیا گیا، جب 28 افغان شہریوں کو جرائم کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تباہ کن ہے۔تنظیم نے خبردار کیا کہ”افغانستان میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد معمول بن چکا ہے۔”رواں ماہ کے آغاز میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

امیگریشن پالیسی میں تبدیلی
چانسلر فریڈرش میرس نے 18 جون کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ”جرمنی کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ باصلاحیت افراد جرمنی کا رُخ کریں لیکن جرائم میں ملوث عناصر کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔”

انہوں نے سابق حکومتوں کی پالیسیوں کو مقامی نظام پر بوجھ کا سبب قرار دیتے ہوئے بارڈر کنٹرول کو سخت کرنےاور چند پناہ گزینوں کیلئے اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کے حق میں پابندی جیسے اقدامات متعارف کروائے۔چانسلر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف سرحدی نگرانی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ یورپی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں