لندن/پیرس/برلن (نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔ تینوں ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں غزہ کی صورتحال کو “ناقابل قبول انسانی المیہ” قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرے تاکہ شہریوں کو فوری انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا”غزہ میں جو انسانی المیہ ہم دیکھ رہے ہیں، اسے اب ختم ہونا چاہیے۔ شہری آبادی کو بنیادی انسانی امداد سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔”
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 9 فلسطینی شہری بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد غذائی قلت کی وجہ سے شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 122 ہو گئی ہے۔
یورپ میں غزہ کی صورتحال پر عالمی ردِ عمل بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔
فن لینڈ:
ہیلسنکی میں فلسطین حامی کارکنوں نے مصری سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا، رفح بارڈر کی بندش پر آواز بلند کی، اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو و مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی تصاویر پر سرخ رنگ انڈیلا۔
ناروے:
اوسلو میں کارکنوں نے مصری سفارت خانے کے گیٹ بند کر دیے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کی، تاہم مظاہرین نے رفح کراسنگ کھولنے کیلئے احتجاج جاری رکھا۔
تین بڑے یورپی ممالک کے حالیہ مؤقف اور یورپی شہروں میں ہونے والے مظاہرے اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران اب عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی فوری اقدام کی توقع کی جا رہی ہے۔

