لاہور جمخانہ کا اپنا ایک جہان ہے، جسے حاصل کرنے کے لئے ہر سال الیکشن ہوتے ہیں مگر اس بار جمخانہ کے جہان کو حاصل کرنے کی تگ و دو کچھ زیادہ ہی ہے اور اگلے پچھلے کئی چئیرمین میدان میں ہیں ، محمدپرویز مسعود کئی بار پنجاب کے چیف سیکرٹری اور چئیرمین لاہور جمخانہ کلب رہے ہیں، وہ چیف سیکرٹری تھے تو ان کا دفتر ہر خاص و عام کے لئے کھلا رہتا تھا ،رعب اور دبدبے والے افسر مگر انکی شفقت بھی دیدنی ہوتی تھی ،ملنے والے افسروں اور لوگوں کی بات سنتے ، کئی افسروں کو ڈانٹ پلاتے مگر کام کا مثبت پہلو نکالتے،اب ان جیسے افسر اور انسان چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو کم ہی ملیں گے،نوے کی دہائی میں نوائے وقت کی طرف سے میں ،بیوروکریسی او ر سول سیکریٹیریٹ کے امور کی رپورٹنگ پر مامورتھا ، ہفتے میں کئی بار پرویز صاحب سے ملنا،ان کے دفتر میں کافی پینا میرا معمول تھا،بہت شفقت کرتے ،میرے سوالات کا بڑے پیار سے جواب دیتے،ایک دفعہ میں نے پوچھا سر ، وفاقی سروس سے تعلق رکھنے والے افسران پنجاب سے مرکز یا دوسرے صوبوں میں جانا کیوں پسند نہیں کرتے حالانکہ یہ انکی سروس کا حصہ ہے تو ہنستے ہوئے کہنے لگےکہ اسکی تین وجوہات ہیں ،لاہور جمخانہ کلب،ایچیسن کالج اور سرکاری رہایش گاہیں ۔
لاہور جمخانہ کے 14 فروری کو ہونے والے سالانہ انتخابات میں اس بار مقابلہ صرف عہدوں کا نہیں، بیانیوں کا ہے، ہر ایک اپنے دعووں، تجربے اور خوابوں کے ساتھ میدان میں ہے اور اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ زیرِ بحث الیکشن میں حصہ لینے والے ایک پینل میں کلب کے چار سابق چئیرمین اور دوسری طرف ایک خط ہے جو کلب ہی کے چھ سابق چیئرمینوں نے تحریر کیا ،ان چئیرمینوںنے انتخابی ماحول کو بیک وقت سنجیدہ اور دلچسپ بنا دیا ہے ۔
سلمان صدیق،میاں مصباح پینل، اس وقت کارکردگی کے اعتماد کے ساتھ میدان میں ہے، ان کے حق میں سابق چھ چیئرمینوں جن میں،خواجہ طارق رحیم،سید نصیر احمد،میاں نثار احمد،پرویز مسعود،فرید الدین احمد اور حفیظ اللہ اسحاق کا کھلا خط محض رسمی توصیف نہیں بلکہ اعداد و شمار کے ساتھ دی گئی ایک گواہی ہے، مالی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ اور آڈٹ شدہ حسابات کو بنیاد بنا کر یہ کہا گیا کہ کلب نے طویل عرصے بعد ایک سو ملین روپے سے زائد کا آپریشنل منافع حاصل کیا، مزید برآں، ماضی کے جمع شدہ خسارے کو 160 ملین روپے کے سرپلس میں بدل دینا کوئی معمولی بات نہیں، اگر واقعی تین سے چار برسوں میں 390 ملین روپے سے زائد کے خسارے کا خاتمہ ہوا ہے تو یہ انتظامی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے،تاہم سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات صرف اعداد و شمار پر جیتے جاتے ہیں؟ یا پھر ممبران کے دل جیتنے کیلئے کچھ اور بھی درکار ہوتا ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں دیگر پینل اپنی جگہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔
احمد نواز سکھیرا نے “مونوپولی بریکر” کے عنوان سے جو پینل میدان میں اتارا ہے، وہ نام ہی میں ایک بیانیہ رکھتا ہے، اس میں چار سابق چیئرمینوں ، تسنیم نورانی، کامران لاشاری، ضیاء الرحمٰن اور ڈاکٹر جواد ساجد کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ تجربہ اور ادارہ جاتی یادداشت کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ وہ چہرے ہیں جو ماضی میں کلب کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں، اس لیے ان کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ ادارے کی سمت درست رکھنے کے لیے تجربہ کار ہاتھ ضروری ہیں، “مونوپولی بریکر” کا عنوان دراصل ایک پیغام ہے کہ کلب کی سیاست میں کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔
“ریفارمر پینل” یا کچھ آزاد امیدوار بھی اصلاح کے بیانیے کے ساتھ سامنے آئے ہیں،ان کے ساتھ مختلف پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افراد شامل ہیں، جو تبدیلی اور نئے وژن کی بات کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ مالی اشاریے بہتر ہوئے، مگر کلب کی روح یعنی ممبران کی شمولیت، شفافیت اور فیصلہ سازی میں شرکت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
یہاں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سلمان،مصباح پینل کے دور میں بعض نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں،جیسا کہ فوڈ اینڈ بیوریج کے خسارے میں تقریباً 60 ملین روپے کی کمی، گیسٹ رومز کے منافع میں 50 ملین روپے سے زائد اضافہ، اور سرمایہ کاری سے 300 ملین روپے سے زیادہ آمدنی کا حصول انتظامی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح فوڈ اینڈ بیوریج کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی، 65 برس سے زائد عمر کے غیر کھیلنے والے اراکین کے لیے اسپورٹس سبسکرپشن کا خاتمہ اور فیس میں نمایاں کمی ایسے اقدامات ہیں جو براہِ راست ممبران کو ریلیف دیتے ہیں لیکن کسی بھی ادارے میں کامیابی کا اصل امتحان تسلسل ہوتا ہے، کیا یہ مالی بہتری پائیدار ہے؟ کیا منافع کا یہ رجحان آنے والے برسوں میں بھی برقرار رہ سکے گا؟ یا یہ چند موافق حالات کا نتیجہ ہے؟ ناقدین عموماً یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی وقتی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے مستقل بنیادوں پر آپریشنل بہتری زیادہ اہم ہے۔ سلمان ،مصباح کی سابق کمیٹی کی طرف سے کلب لیز کے معاملے کو خاموشی اور وقار کے ساتھ نمٹانا اور ایجوکیشن سیس کے واجبات کو 66 ملین سے کم کر کے 15 ملین تک لانا بھی یقیناً ایک انتظامی کامیابی ہے، ایسے معاملات میں ہنگامہ آرائی کے بجائے تدبر اور مذاکراتی مہارت درکار ہوتی ہے،کلب کے سابق چیئرمینوں نے بجا طور پر اس پہلو کو سراہا ہے، مگر مخالف پینلز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ان معاملات کی تفصیلات ممبران کے ساتھ مکمل شفافیت سے شیئر کی گئیں؟ کیونکہ آج کے دور میں اعتماد کا ستون شفافیت ہی ہے۔لاہور جمخانہ صرف کھیلوں کا مرکز نہیں، یہ ایک سماجی ادارہ بھی ہے، تیراکی، گالف، جمنازیم اور کرکٹ سمیت دیگر شعبوں میں بہتری کے دعوے اپنی جگہ، مگر ممبران کی توقعات اس سے کہیں آگے جاتی ہیں، وہ جدید سہولیات، بہتر گورننس، ڈیجیٹلائزیشن، اور فیصلہ سازی میں شمولیت چاہتے ہیں، نوجوان ممبران کی ترجیحات مختلف ہیں، بزرگ اراکین کی ضروریات اور ہیں، ایک کامیاب کمیٹی وہی ہوگی جو اس تنوع کو سمجھ سکے۔
انتخابات کے اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سا پینل سبقت لے جائیگا، تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس بار مقابلہ نسبتاً سنجیدہ اور پروگرام پر مبنی دکھائی دیتا ہے،سابق چیئرمینوں کا کھلا خط اور سابقہ کارکردگی یقیناً سلمان،مصباح پینل کیلئے اخلاقی تقویت کا باعث ہے تو احمد نواز سکھیرا پینل میں چار سابق چئیرمینوں کا ہونا بھی معنی رکھتا ہے،حتمی فیصلہ بہرحال ممبران نے کرنا ہے، وہی طے کرینگے کہ آیا کارکردگی کا تسلسل بہتر ہے یا تجربے کا پلڑا بھاری ہے، یا پھر اصلاح اور تبدیلی کا نعرہ زیادہ دلکش، اگر واقعی خسارے کو سرپلس میں بدلنے کی روایت قائم ہو چکی ہے تو اسے برقرار رکھنا آئندہ قیادت کی ذمہ داری ہوگی، اگر ممبران کو ریلیف دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو اسے مزید وسعت دینا ہوگی اور اگر شفافیت اور مشاورت کا کلچر فروغ پا رہا ہے تو اسے ادارہ جاتی شکل دینی ہوگی تاکہ آنے والے برسوں میں بھی لاہور جمخانہ مالی استحکام، انتظامی وقار اور سماجی ہم آہنگی کی مثال بنا رہے۔

