سینئرصحافی سہیل وڑائچ نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران انکشافات کرتے ہوئے سوالات اٹھایئں ہے کہ پاکستان کے وہ ججزجنہوں نے پاکستان کے منتخب وزیراعظم کی جان لے لی۔ان کی تصویریں سپریم کورٹ میں کیوں لگی ہوئی ہیں ان کی تصویریں ہٹائی جائیں ان کے ناموں پرسیاہی پھیری جائے ان کوعلامتی سزادی جائےجب تک یہ نہیں ہوگاپاکستان کی سمت ٹھیک نہیں ہوگی۔
میں دوسری گزارش یہ کرناچاہتاہوں محترمہ بینظربھٹوکے بارے میں پارلیمان نے پارلیمان کی تمام جماعتوں نے مل کے دنیاکے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ کی انکوائری رپورٹ اورانکوائری کمیشن کی بات کی وہ انکوائری کمیشن پاکستان آیااس انکوائری کمیشن نے متحرمہ بینظربھٹوکے قتل کی تحقیقات پررپورٹ دی میں سوال کرتاہوں اس رپورٹ پرعمل کیوں نہیں ہوا.
وہ لوگ جن کے بارے میں کمیشن نے کہاتھاکہ یہ قتل میں شامل ہیں یہ سازش میں شامل ہیں میں بلاول بھٹوسے پیپلزپارٹی سے درخواست کرتاہوں کہ ان لوگوں کوکیفرکردارتک پہنچایاجائے چاہے وہ کوئی وردی والاتھایہ وردی کے بغیرتھا،کوئی پولیس والاتھایاکوئی عام شہری تھاسب کوسزائیں دلوائیں آپ ان کومعافی دینے کے حق دارنہیں ہیں کہ آپ نے ان کی معافی دیدی ہے اب میں سمجھتاہوں کہ عوام کایہ حق ہے کہ وہ بلاول بھٹوسے یہ پوچھیں اوران کوبھی سزادلوائیں۔
دیکھیں باتیں کرنااورہے اورجانیں دینااوراس میں بڑافرق ہے ۔براہ کرم جب بھی ہم پیپلزپارٹی کودیکھیں اوردوسری پارٹی کودیکھیں یہ فرق ملحوظ خاطررکھیں کہ انہوں نے خون دیاہواہے دوسری صرف باتیں کرتے ہیں۔عجیب بات ہےکہ 45سال بعدفیصلہ ہواکہ یہ جوپھانسی تھی یہ غلط تھی یہ فیصلہ غلط تھایہ جوڈیشل مرڈرتھالیکن فیصلہ کرنے والے توکسی کے ٹائوٹ تھے اصل مجرم کاکیابناوہ جنرل ضیاالحق جس نے پھانسی دلوائی جوپیچھے تھااس کے بارے میں کیافیصلہ ہوااس کی قبرفیصل مسجدمیں کیوں ہے اس کی قبروہاں سے اٹھاکرعام قبرستان میں کیوں نہیں بنائی جاتی ۔

