جنوبی افریقہ کی خواتین کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کی تیاریوں کیلۓ پاکستان کے دورہ پر گزشتہ روز لاہور پہنچ گئی۔ قومی خواتین ٹیم نے سیریز کی تیاریوں کیلۓ ہائی پرفارمنس سنٹر اور قذافی سٹیڈیم میں کئی روز تک ہیڈ کوچ محمد وسیم کی نگرانی میں بیٹنگ۔ باولنگ اور فیلڈنگ کی بھرپور مشقیں کیں۔ کھلاڑیوں کو سکلز ڈویلپمنٹ کی ٹپس دی گئیں جبکہ خواتین کھلاڑیوں نے ہائی پرفارمنس سنٹر میں فٹنس کی مختلف ڈرلز کیں اور فیلڈنگ سیشن میں حصہ لیا۔
بارشوں کے بارث تربیتی کیمپ شدید متاثر ہوا جس کے باعث خواتین کھلاڑیوں نے انڈور میں بیٹنگ اور باؤلنگ کی پریکٹس کی۔وویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم کا کہنا ہے کہ بیسٹ فارمیٹ جو ہماری وویمنز ٹیم کو سوٹ کرتا ہے وہ ون ڈے ہے،ورلڈکپ بھی 50 اوورز کا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بہت امیدیں ہیں۔ محمد وسیم نے کہا کہ کوچ یا کھلاڑی کو جو بھی کنڈیشن ملے اس کو استعمال کرنا ہے بارش اور موسم یہ آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں ہمارا فوکس یہی رہا ہے کے جتنا بھی ہمیں ٹائم ملا جو بھی ہمیں سہولت ملی ہے اس کو ہم بہتر طریقے سے استعمال کریں۔
ان کا کہنا تھا آئیڈیل سینیریو میں کہہ سکتے ہیں کے ہمیں زیادہ میچز اور سیشن مل جاتے اس کا ہمیں زیادہ فائدہ ہوتا، ہمارے پاس آل راؤنڈرز کی آپشن موجود ہے ہماری مین سٹرینتھ سپن باؤلنگ ہے۔ ہمارے پاس ورلڈ کلاس سپنرز موجود ہیں ۔ کوالیفائرز میں پیسرز نے بھی اچھی باؤلنگ کی تھی۔ محمد وسیم کا کہنا تھا ہم نے سیریز اور ورلڈ کپ کیلئے15رکنی بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔
پاکستان وویمنز کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ عبدالسعد اور سٹرنتھنگ و کنڈیشنگ کوچ اسفند یار کا کہنا تھا پاکستان اور سری لنکا کی ایک جیسی کنڈیشن ہے۔ ہمارا سفر فیصل آباد سے شروع ہوا تھا اور پلئیرز نے ٹریننگ سیشنز میں بہت محنت کی ہے،فیلڈنگ میں سب سے اہم فوری ری ایکشن ہے جس سے ہم دوسری ٹیم کو کاؤنٹر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے بہت کام ہوا ہے۔ پلیئرز کوچز کی گائیڈنس کو اپنا رہے ہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین تین ایک روزہ میچوں کی سیریز سولہ سے بائیس ستمبر تک جاری رہیگی۔

