سیول (اے پی+رائٹرز+ساؤتھ چائنامارننگ)جنوبی کوریا نے اپنی مقامی سطح کی خلائی ٹیکنالوجی کو ثابت کرتے ہوئے Nuri راکٹ کو کامیابی کے ساتھ خلا کی جانب بھیجا، اور اس مشن کے تحت 13 سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں منتقل کر دیا گیا۔

یہ لانچ جنوبی ملک کے نیشنل اسپیس پورٹ Naro Space Center سے صبح سویرے 1:13 بجے ہوئی — اگرچہ آغاز میں معمولی تاخیر ہوئی تھی، مگر بعد ازاں تمام مراحل ٹھیک قرار پائے اور سیٹلائٹس طے شدہ 600 کلومیٹر کی مدار پر کامیابی سے پہنچ گئے۔
نوری راکٹ نے ایک 516-کلوگرام کا مرکزی سائنسی سیٹلائٹ اور 12 مائیکرو (Cube) سیٹلائٹس کامیابی سے مدار میں قائم کیے۔ مرکزی سیٹلائیٹ کا مقصد آسمانی روشنی (aurora/airglow) کی نگرانی، پلازما و مقناطیسی میدان کی پیمائش اور خلائی ماحولیاتی تحقیقاتی مشنز انجام دینا ہے، جبکہ مائیکرو سیٹلائٹس فضائی اعداد و شمار، سمندری آلودگی، موسمیاتی مشاہدات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کریں گے۔

خلائی حکام اور ترقیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ لانچ ملک کی خودمختار خلائی صلاحیت کے عزم کا ثبوت ہے — یہ پہلا موقع ہے جب ایک پرائیویٹ کمپنی Hanwha Aerospace نے راکٹ کی اسمبلنگ اور لانچ آپریشن کی ذمّہ داری سنبھالی، جو حکومت پر انحصار کو کم کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس کامیابی کے بعد جنوبی کوریا نہ صرف خلائی تحقیق اور مشاہدے میں تیزی لا سکے گا، بلکہ آئندہ برسوں میں قمری مشنز، گہری خلائی تلاش اور نجی خلائی صنعت کی ترقی کی راہوں کو بھی ہموار کرے گا۔

