جنگ کیلئے ثالثی اُن ممالک کو کرنی چاہیے جنہوں نے تنازع شروع کیا: ایرانی صدر

تہران (ایجنسیاں) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششیں اُن ممالک کی طرف سے ہونی چاہئیں جنہوں نے اس تنازع کو شروع کیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں تاہم خطے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے سنجیدہ ہے لیکن اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ایران اپنی قوم کے وقار اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ثالثی اُن فریقوں کی جانب سے ہونی چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کمزور سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔ادھر امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جنگ ساتویں روز میں داخل ہوگئی ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 332 تک پہنچ گئی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی شہر شیراز میں امریکا اور اسرائیل کے حملے میں 20 افراد شہید ہوگئے جبکہ حملہ شہر کے رہائشی علاقے پر کیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر کی کارروائیوں میں 6 ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کردیے گئے جبکہ حالیہ حملوں میں 3 جدید ایرانی دفاعی نظام بھی تباہ کیے گئے ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ اصفہان میں اسرائیلی ڈرون ہیرون مار گرایا گیا جبکہ لورستان میں امریکی ڈرون ایم کیو 9 اور تہران کے نواح میں ہرمس ڈرون کو بھی تباہ کردیا گیا۔