جنیوا: اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر کشمیریوں کا زبردست احتجاج

بھارتی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی، انسانی حقوق کی پامالی پر اقوامِ متحدہ کی مداخلت کا مطالبہ

جنیوا (نمائندہ خصوصی)اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا میں موجود کشمیری وفد اور انسانی حقوق کے کارکنان نے بھارتی مظالم کے خلاف اقوامِ متحدہ کے دفتر (برکن چیئر) کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرے میں درجنوں کشمیری، حریت رہنما، انسانی حقوق کے ماہرین، ماہرین تعلیم اور یورپ میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن نے شرکت کی۔


مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “کشمیر کو آزاد کرو”، “بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کرو”، اور “انسانی حقوق کی پامالی نامنظور” جیسے نعرے درج تھے۔ اس دوران اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور بھارت کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر کے تحت ہزاروں افراد بشمول خواتین، بچے اور نوجوان ماورائے عدالت قتل کیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

مقررین نے آرٹیکل 370 اور 35-A کی تنسیخ کو کشمیری عوام کے ساتھ کھلی دشمنی قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد سے سیاسی، مذہبی و شہری آزادیوں پر مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حریت رہنماؤں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)، یو اے پی اے (UAPA) اور اے ایف ایس پی اے (AFSPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں، تاکہ اختلاف رائے کو کچلا جا سکے۔

پہلگام میں حالیہ “فالس فلیگ آپریشن” کا حوالہ دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ کارروائیاں عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں، تاکہ بھارت کشمیریوں پر کریک ڈاؤن کو مزید بڑھا سکے۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے۔

مظاہرین نے شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور دیگر اسیر رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا جنہیں سخت بیماریوں کے باوجود جیلوں میں رکھا گیا ہے۔

مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اس کے وعدوں کا پابند کرے، کالے قوانین ختم کرائے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کر کے فوری عمل درآمد کرائے۔

اس موقع پر آزاد کشمیر کے سابق وزیر چوہدری پرویز اشرف، کشمیری وفد کے سربراہ الطاف حسین وانی، اے پی ایچ سی کے کنوینر غلام محمد صفی، سردار امجد یوسف، مسز شمیم شال، ڈاکٹر سائرہ فاروق شاہ، نائلہ الطاف کیانی اور محترمہ مہرالنساء رحمان نے خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں