تہران( تسنیم نیوز ایجنسی، ایرانی وزارت دفاع)ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے اعلیٰ مشیر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات نہ صرف مکمل محفوظ ہیں بلکہ امریکہ کے جدید ترین ہتھیار بھی انہیں تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا”فردو، نطنز اور اصفہان جیسے تنصیبات کو چند بموں اور ایک حملے سے تباہ کرنا ممکن نہیں، ان تنصیبات کو زیر زمین انتہائی محفوظ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے، اور ان کی حفاظت کے لیے ایران نے کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی کی ہے۔”
امریکی صدر کو براہِ راست چیلنج
جنرل جباری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آپ ایران میں کام مکمل کریں گے۔ آپ نے ہمارے کمانڈروں کو نشانہ بنایا، مگر ہم نے نئے کمانڈرز کھڑے کر دیے۔ آپ نے ہماری قوم میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر اس کے نتیجے میں قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو گئی۔”
جنرل جباری کے مطابق فردو نیوکلیئر سائٹ پر امریکی حملہ “بنکر بسٹر بموں کے افسانے کو توڑنے والا واقعہ” بن چکا ہے؛امریکی بمباری کے باوجود اہم جوہری ڈھانچے محفوظ رہے؛ایران کے سائنسدان اور انجینئر متبادل پلانز پر فوری طور پر عملدرآمد کر چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنی ’ٹروتھ سوشل‘ پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ”ایران کے خلاف فضائی مہم انتہائی کامیاب رہی ہے، فردو ہماری پہلی ترجیح تھی، اور وہ مکمل تباہ ہو چکا ہے۔”
تاہم، جنرل جباری نے اس بیان کو سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا”حقیقت یہ ہے کہ امریکا صرف چند سطحی ڈھانچے تباہ کرنے میں کامیاب ہوا، مگر ایران کا جوہری پروگرام محفوظ رہا اور چند ماہ میں مکمل بحالی کی طرف گامزن ہے۔”
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا”یہ حملے ایرانی عوام کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہے؛” “ایران نے ہر سطح پر جوابی دفاعی منصوبے فعال کیے ہیں؛””امریکا اور اسرائیل کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایرانی سرزمین پر جارحیت کی قیمت بہت زیادہ ہے۔”

