جھوٹے الزامات پر میلانیا ٹرمپ کا ہنٹر بائیڈن کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کا نوٹس

واشنگٹن ( فاکس نیوز) — امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے بڑے بیٹے، وکیل و صنعت کار ہنٹر بائیڈن کو جیفری ایپسٹین سے متعلق ’غلط، توہین آمیز اور جھوٹے دعوے‘ کرنے پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔

میلانیا کے وکیل الیخاندرو بریٹو کی جانب سے 6 اگست کو ہنٹر بائیڈن اور ان کے وکیل ایب لوئل کو بھیجے گئے نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنے بیانات واپس لیں، معافی مانگیں اور متعلقہ ریکارڈ حذف کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

یہ الزامات ہنٹر بائیڈن نے یوٹیوب پر چینل 5 کے میزبان اینڈریو کالہان کے پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران لگائے، جس میں انہوں نے متنازع مصنف مائیکل وولف کے دعوؤں کی بنیاد پر کہا کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے ہی میلانیا کا تعارف ڈونلڈ ٹرمپ سے کروایا تھا۔

میلانیا ٹرمپ کے وکیل کے مطابق یہ الزامات سراسر جھوٹے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلائے گئے، جس سے خاتون اول کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ ڈیلی بیسٹ نے مذکورہ دعوے پر معافی مانگتے ہوئے خبر حذف کر دی تھی، تاہم ہنٹر بائیڈن نے اسے دوبارہ دہرایا۔

ذرائع کے مطابق ہنٹر بائیڈن نے نوٹس پر عمل کرنے کے بجائے خط کو ایک نامعلوم رپورٹر کے ذریعے میڈیا میں لیک کر دیا۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حالیہ دنوں میں ڈیلی بیسٹ اور سیاسی تجزیہ کار جیمز کارول نے بھی اسی دعوے پر معافی مانگی تھی۔

میلانیا کے ترجمان نک کلیمنز نے کہا کہ وکلا فوری تردید اور معافیاں یقینی بنا رہے ہیں، جبکہ میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات کی تفصیلات ان کی کتاب Melania میں درج ہیں۔

خیال رہے کہ جیفری ایپسٹین، جو جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھے، 2019 میں امریکی جیل میں خودکشی کر گئے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ کم عمر اور بعض نابالغ لڑکیوں کو جنسی استحصال کیلئےامیر افراد تک پہنچاتے تھے، اور ان کے تعلقات کئی اعلیٰ شخصیات، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی شہزادہ اینڈریو، سے رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں