حسین نقی: ایک فرد، ایک عہد، ایک متبادل تاریخ

لاہور( اقبال محسن سے)حسین نقی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے طاقت کے مراکز کے بجائے اصولوں کا ساتھ دیا۔ وہ سیاست کو مفاد نہیں، ذمہ داری سمجھتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہر دور میں اختلاف کی علامت بنے رہے۔

ایک منظر آج بھی یاد کیا جاتا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو ایک پریس کانفرنس میں سرمایہ داروں کو سرمایہ واپس لانے پر معافی کی پیشکش کر رہے تھے۔ مجمع میں موجود حسین نقی کھڑے ہوئے اور سوال کیا: “ہم انہیں کیوں معاف کریں؟ یہ تو عوام کا پیسہ ہے، انہیں اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بھٹو صاحب برہم ہو گئے اور بولے: “نقی! تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو۔” چند ہی دن بعد بھٹو صاحب ایک جھوٹے مقدمے میں جیل پہنچا دیے گئے۔ ضیاء الحق کے دور میں تو جیل ان کا مقدر بن گئی۔

وقت گزرا، بے نظیر بھٹو وزیرِاعظم بنیں۔ ایک موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ ان میں اور ان کے والد میں کیا فرق ہے؟ حسین نقی کا جواب مختصر مگر معنی خیز تھا: “وہ زیادہ سنتے تھے، آپ زیادہ بولتی ہیں۔”

حسین نقی کی زندگی کا آغاز ہی سوال اٹھانے سے ہوا۔ اسلامیہ کالج لاہور سے انہیں نکال دیا گیا۔ جامعہ کراچی آئے تو ایم اے کے طالب علم بنے، طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے، مگر یہاں بھی ان کے لیے پابندیاں کم نہ ہوئیں۔

لکھنؤ کے شیعہ کالج میں، جہاں ان کے والد ٹرسٹی تھے، انہوں نے فرقہ وارانہ امتیاز کے خلاف ہڑتال کی کال دی اور اپنی والدہ کے ذریعے والد کو پیغام بھجوایا کہ اگر سنی طلبہ کو داخلہ نہ دیا گیا تو ہڑتال ہوگی۔

وہ بائیں بازو کی سیاست میں سرگرم رہے، مگر کسی ایک تنظیم کے مستقل رکن نہ بنے۔ نہ ڈی ایس ایف، نہ این ایس ایف، نہ نیشنل عوامی پارٹی اور نہ ہی پیپلز پارٹی۔ حسین نقی ہمیشہ اپنی راہ خود بناتے رہے، حتیٰ کہ کسی اخبار سے بھی دو چار برس سے زیادہ وابستہ نہ رہے۔

البتہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان سے ان کا رشتہ 26 برس پر محیط رہا، جہاں وہ چیئرمین کے عہدے تک پہنچے۔ یہی وہ پلیٹ فارم تھا جہاں ان کی جدوجہد کو ایک باقاعدہ شناخت ملی۔

زندگی نے انہیں آسائشیں نہیں دیں۔ بے روزگاری کے دن بھی آئے، مالی تنگی بھی دیکھی۔ ان کی اہلیہ زہرہ سلطان قزلباش ان دنوں شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔ حسین نقی اپنی شادی کا واقعہ سادگی سے بیان کرتے تھے کہ شادی کے چھ برس بعد جب وہ تیسری جماعت کے ڈبے میں کراچی آ رہے تھے تو ایک قلی ان کا جہیز لے گیا۔ کراچی پہنچے تو دوستوں نے ولیمے کی سلامی پارٹی فنڈ میں دینے کا مطالبہ کر لیا۔ وہ رقم زہرہ نے دے دی، جو آج بھی ان کے ذمے قرض سمجھی جاتی ہے۔

حسین نقی خود کہا کرتے تھے: “میں بہت کچھ کر سکتا تھا، مگر میں نے کم کیا۔” یہی ان کی دیانت داری تھی۔ ان کی پوری زندگی اسی سچائی کی گواہ ہے۔

ان کی زندگی پاکستان کی ایک متبادل سیاسی تاریخ ہے، خصوصاً بائیں بازو کی سیاست کی۔ وہ جامعہ کراچی میں اپنے کئی ہم عصروں سے سینئر تھے، مگر کبھی اس برتری کا اظہار نہیں کیا۔

اگر ان کی زندگی سے کوئی ایک سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے وہی کیا جو انہیں درست لگا، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔

حسین نقی کو پڑھنا، دراصل پاکستان کی اس تاریخ کو پڑھنا ہے جو نصابی کتابوں میں شامل نہیں۔