واشنگٹن( نمائندہ خصوصی)سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس غزہ میں جنگ بندی یا قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کسی معاہدے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب حماس نے امریکی ایلچی پر مذاکرات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز، اے پی نیوز اور اے ایف پی کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ
’’حماس معاہدہ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ میرا خیال ہے وہ مرنا چاہتی ہے۔‘‘
ٹرمپ کے اس بیان سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں حماس کسی قسم کی مفاہمت یا جنگ بندی کیلئےتیار نہیں۔دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے سرکاری مؤقف کے برعکس بیانات دے رہے ہیں اور یہ تمام عمل امن مذاکرات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
اے پی نیوز نے بتایا کہ امریکی ثالثی ٹیم قطر میں جاری مذاکرات سے واپس بلالی گئی ہے اور امریکی ایلچی نے بھی حماس پر مذاکرات میں غیر سنجیدہ رویے کا الزام عائد کیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ حماس کسی حل کیلئے تیار نہیں اور وہ صرف تصادم کو بڑھانا چاہتی ہے۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ دونوں نے حماس کو مذاکرات میں سنجیدہ فریق نہ ہونے کا ذمہ دار قرار دیا۔حماس نے وٹکوف کے بیانات کو ’’منفی‘‘ اور ’’غیر مددگار‘‘ قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایسے بیانات مذاکرات کی فضا کو خراب کر رہے ہیں۔
یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ اور حماس کے درمیان اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی، اور مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔ حماس امریکہ پر جانب داری کا الزام عائد کر رہی ہے، جبکہ امریکہ اسے معاہدے میں عدم دلچسپی کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔

