قاہرہ،یروشلم (اے ایف پی) حماس سمیت اہم فلسطینی سیاسی جماعتوں نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات ایک آزاد ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے بعد حماس کی ویب سائٹ پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام گروپوں نے فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کا انتظام ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا جو ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل ہوگی۔
بیان کے مطابق یہ کمیٹی عرب برادر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے روزمرہ امور اور بنیادی خدمات کی نگرانی کرے گی۔اجلاس میں شریک گروپوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ایک متحد قومی موقف اختیار کریں گے تاکہ مسئلۂ فلسطین کو درپیش چیلنجوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کا ایک مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایک قومی حکمتِ عملی پر اتفاق اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کی بحالی کی کوششیں کی جا سکیں، جو فلسطینی عوام کی واحد جائز نمائندہ ہے۔
یاد رہے کہ حماس پی ایل او کا حصہ نہیں ہے، جو طویل عرصے سے اس کی حریف جماعت الفتح کے زیر اثر ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے حماس اور الفتح کے وفود نے قاہرہ میں ملاقات کی۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقین نے آئندہ بھی ملاقاتوں کے تسلسل اور اسرائیلی اقدامات کے مقابلے میں فلسطینی داخلی اتحاد کو منظم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسی دوران مصری انٹیلی جنس چیف حسن رشاد نے اہم فلسطینی دھڑوں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی، جن میں اسلامی جہاد، ڈیموکریٹک فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین، اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے نمائندے شامل تھے — یہ دونوں تنظیمیں پی ایل او کا حصہ ہیں۔
حماس اور الفتح کے درمیان 2006 کے انتخابات کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی نے فلسطینی اتحاد کی تمام کوششوں کو متاثر کیا تھا۔دسمبر 2024 میں دونوں جماعتوں نے جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے مشترکہ کمیٹی پر اصولی اتفاق کیا تھا، تاہم الفتح کے بعض ارکان نے اس معاہدے پر اعتراض کیا تھا۔
حماس، جس نے 2007 میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا، پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ جنگ کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرے گی، مگر اس نے اپنے عسکری ونگ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
“روبیو کی جانب سے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی تجویز”
امریکی اعلیٰ سفارتکار مارکو روبیو نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد غزہ میں ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے خواہاں ہیں جو جنگ بندی کی نگرانی کرے۔روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس کے بعد اسرائیل کا دورہ کرنے والے دوسرے اعلیٰ امریکی نمائندہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ “یہ ضروری ہے کہ ایسا معاہدہ تیار کیا جائے جو جلد از جلد استحکام کی فورس کے قیام کی راہ ہموار کرے۔”
روبیو نے اسرائیلی اور مغربی افواج سے ملاقات کی جو جنوبی اسرائیل میں قائم جنگ بندی مانیٹرنگ سینٹر میں تعینات ہیں، اور کہا کہ وہ دو سالہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں پُرامید ہیں۔ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں تیار کیا گیا معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔
غزہ میں تباہ شدہ علاقوں میں لوگ اپنے گھروں تک واپس پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کئی علاقے اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہیں جنہیں “خطرناک زون” قرار دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 68 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں کمی آئی ہے، لیکن امدادی سامان کی ترسیل اب بھی محدود ہے اور غزہ دو حصوں میں منقسم ہے — ایک حصہ حماس کے زیر کنٹرول اور دوسرا اسرائیلی زیر قبضہ۔
روبیو کے مطابق بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی آمد سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رقوم حماس کے زیر قبضہ علاقوں کو نہیں دی جائیں گی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیل کو فورس کی تشکیل پر ویٹو کا حق حاصل ہوگا، کیونکہ اسرائیل نے ترکیہ کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ترکیہ، جو نیٹو کا رکن ہے، خطے کی سب سے طاقتور مسلم افواج میں سے ایک رکھتا ہے۔دوسری جانب انڈونیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کیلئے تیار ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی جنگ بندی کی نگرانی کے عمل کا حصہ ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ بین الاقوامی تعاون یقینی بنایا جا سکے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انروا (UNRWA) کا غزہ میں کوئی مستقبل کردار نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل نے اسے اپنی حدود میں کام کرنے سے روک دیا ہے۔
فی الحال تقریباً 200 امریکی فوجی ایک سول-ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر میں تعینات ہیں، جہاں درجن بھر ممالک کے اہلکار امدادی اور مانیٹرنگ سرگرمیوں میں شامل ہیں۔عمارت میں نصب بڑی اسکرینوں پر غزہ میں پہنچنے والی تازہ خوراک اور امداد کے اعداد و شمار دکھائے جا رہے تھے، اور شیڈول کے اختتام پر صدر ٹرمپ کے الفاظ نمایاں تھے“ایک نیا اور خوبصورت دن طلوع ہو رہا ہے، اور اب تعمیر نو کا آغاز ہورہا ہے۔”

