حماس کا امریکا پر قطر میں مذاکرات کاروں پر اسرائیلی حملے میں ملوث ہونے کا الزام

دوحہ/غزہ (رائٹرز/اے ایف پی)حماس نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ قطر میں اسرائیلی حملے میں شریک تھا جس میں اس کے مذاکرات کار سمیت چھ افراد شہید ہوئے۔ قطر میں شہدا کی تدفین کے دوران حماس نے اسرائیل پر غزہ جنگ بندی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ قطر کے امیر نے جنازے میں شرکت کی اور حکومت نے سیکیورٹی سخت کر دی۔ اسرائیلی حملے نے خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ قطر نے ثالثی کردار پر ازسرنو غور شروع کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق منگل کو قطر میں اسرائیلی حملے نے ایک ایسے خطے کو ہلا دیا جو عرصۂ دراز سے تنازعات سے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ حملے میں حماس کے پانچ ارکان اور ایک قطری فوجی شہید ہوئے۔ حماس کے مطابق شہدا میں اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیہ کے بیٹے حمام الحیہ، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد، باڈی گارڈ احمد مملوک، عبداللہ عبدالوحد اور مؤمن حسون شامل ہیں۔

حماس کے رہنما فوزی برہوم نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ یہ حملہ ’’پورے مذاکراتی عمل کا قتل اور قطر و مصر میں ہمارے ثالثی بھائیوں کے کردار پر حملہ‘‘ ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ اس حملے میں ’’مکمل طور پر ملوث‘‘ ہے۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے شہدا کی نماز جنازہ میں شرکت کی، جن میں ایک تابوت قطری پرچم اور پانچ تابوت فلسطینی پرچموں میں لپٹے ہوئے تھے۔ جنازہ شیخ محمد بن عبدالوہاب مسجد میں ادا کیا گیا اور بعد ازاں میسائمر قبرستان میں تدفین کی گئی۔ وزارت داخلہ نے مسجد کے اطراف سخت سیکیورٹی اور چیک پوسٹیں قائم کیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اسرائیلی اقدام کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور جیسے ہی اطلاع ملی انہوں نے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کو قطر کو خبردار کرنے کی ہدایت دی، تاہم اس وقت تک حملہ شروع ہو چکا تھا۔

قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیلی حملے نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات ختم کر دیے ہیں اور قطر ثالثی کے اپنے کردار کا ’’ازسرنو جائزہ‘‘ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک اجتماعی عرب-اسلامی ردعمل اور دوحہ میں سربراہی اجلاس کی امید رکھتے ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حملے کی مذمت کی اور قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا، تاہم اسرائیل کا نام بیان میں شامل نہیں کیا گیا۔ برطانیہ اور فرانس کے تیار کردہ بیان میں زور دیا گیا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کو ترجیح دی جائے۔

حماس کے الزام اور قطر کے ردعمل نے خطے میں سفارتی اور سلامتی بحران کو مزید شدید بنا دیا ہے، جبکہ ثالثی عمل کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں