اوٹاوا (نامہ نگار) — وفاقی صنعت و معاشی ترقی کی وزیر میلانیا جولی نے اعلان کیا ہے کہ کیوبیک کی ایلومینیم صنعت کو امریکی محصولات (ٹیرِف) کے منفی اثرات سے بچانے کیلئے وفاقی حکومت کے قائم کردہ پانچ ارب ڈالر کے فنڈ سے سینکڑوں ملین ڈالر فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
کینیڈا میں تیار ہونے والے ایلومینیم کا زیادہ تر حصہ کیوبیک ہی میں تیار ہوتا ہے، اسلئےیہ خطہ امریکی فیصلے سے براہِ راست سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ پانچ ارب ڈالر کا فنڈ کس پیمانے پر اور کس طرح مختلف شعبوں میں تقسیم ہوگا۔
کینیڈین ایلومینیم ایسوسی ایشن کے صدر ژاں سمار نے کہا کہ یہ امداد وقتی ریلیف نہیں بلکہ ایک ایسا اقدام ہے جو کینیڈین ایلومینیم کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق اگرچہ یورپ اور ایشیا میں بھی کینیڈین ایلومینیم کی منڈیاں موجود ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھاری اکثریت براہِ راست امریکہ کو برآمد کی جاتی ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سے کینیڈین اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد تک کے بھاری محصولات عائد کرنے کے بعد برآمدی صنعت شدید مشکلات سے دوچار ہے، جس سے نہ صرف ہزاروں محنت کشوں کے روزگار کو خطرہ لاحق ہوا ہے بلکہ خطے کی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
وفاقی وزیر میلانیا جولی نے کہا کہ اوٹاوہ حکومت اس بحران سے نمٹنے اور کینیڈین صنعتوں کو سہارا دینے کیلئےپرعزم ہے۔ ان کے مطابق یہ فنڈ ایک حفاظتی ڈھال کے طور پر کام کرے گا تاکہ عالمی تجارتی تنازعات کے باوجود کینیڈا کی ایلومینیم صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔
واضح رہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا تو کینیڈین حکام امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر مزید جوابی محصولات بڑھانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

