حیات محمد خان شیرپاؤ شہید: خدمت، فکر اور عوامی سیاست کی علامت

8 فروری پاکستان کی تاریخ کا وہ افسوسناک دن ہے جب ایک نوجوان، عوام دوست اور ترقی پسند رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران بم دھماکے میں شہید کر دیے گئے۔ کئی دہائیاں قبل قاتلوں کا مقصد یقیناً یہی تھا کہ ان کی شہادت کے ساتھ وہ سوچ بھی ختم ہو جائے گی جس کے مطابق سیاست طاقت کے بجائے خدمت، کھوکھلے نعروں کے بجائے عمل، اور اشرافیہ کے بجائے عوام پر یقین کا نام ہے۔ مگر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، کیونکہ حیات محمد خان شیرپاؤ کی فکر، وژن اور عوامی سیاست کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ کچھ لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر تاریخ میں کبھی گم نہیں ہوتے؛ وہ آنے والے وقت کے لیے ایک معیار چھوڑ جاتے ہیں، اور حیات شیرپاؤ بھی انہی نادر شخصیات میں سے ایک تھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کے پُرآشوب برسوں میں، جب نوزائیدہ ریاست اپنی سمت اور شناخت تلاش کر رہی تھی، بہت کم رہنما ایسے تھے جو جرات، عوامی خدمت اور ترقی پسند سیاست کی حقیقی روح کے حامل ہوں۔ 1937 میں چارسدہ کے ایک سیاسی طور پر بیدار اور سماجی طور پر متحرک ماحول میں پیدا ہونے والے حیات شیرپاؤ نے اپنی مختصر مگر بامقصد زندگی میں وہ مقام حاصل کیا جو اکثر سیاستدان دہائیوں میں بھی حاصل نہیں کر پاتے۔ 1975 میں ان کی شہادت نے نہ صرف اُس وقت کے صوبہ سرحد بلکہ پورے پاکستان کو گہرے صدمے سے دوچار کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی فکر اور عوام سے وابستگی مزید واضح ہوتی چلی گئی۔

حیات شیرپاؤ ایسے دور میں سامنے آئے جب پختون سیاست قبائلی اثر و رسوخ اور جذباتی قوم پرستی کے درمیان منقسم تھی۔ انہوں نے اس روایت سے ہٹ کر ایک نئی سیاسی سوچ متعارف کرائی۔ ایسی سوچ جو جدید بھی تھی، ترقی پسند بھی، اور عوامی خدمت سے جڑی ہوئی بھی۔ ان کا یقین تھا کہ پختون عوام کو نعروں کے سہارے نہیں بلکہ تعلیم، روزگار اور مساوی مواقع کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کی سیاست کا مرکز عوام تھے، اور ان کی توجہ عام آدمی کے روزمرہ مسائل کے عملی حل پر مرکوز تھی: زمین کی اصلاحات، تعلیم تک رسائی، صحت کی سہولیات، اور انصاف تک باوقار و مؤثر رسائی۔

جہاں اس دور کے کئی رہنما جذباتی قوم پرستی تک محدود رہے، وہاں حیات شیرپاؤ عوام کو بااختیار بنانے کے لیے مضبوط اداروں پر یقین رکھتے تھے۔ وہ ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتے تھے جہاں پختون علاقے قومی دھارے سے کٹے ہوئے نہ ہوں بلکہ ترقی کے فعال شراکت دار ہوں۔ ان کے نزدیک سیاست کو اشرافیہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے تھا بلکہ عوامی شمولیت اور شعور پر استوار ہونا چاہیے—یہ اُس زمانے میں ایک جرات مندانہ اور دوراندیش تصور تھا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ حیات شیرپاؤ کا تعلق ایک مشترکہ وژن پر مبنی تھا۔ دونوں ایک ایسے پاکستان کے خواہاں تھے جو مساوی، خوددار اور عوامی فلاح پر قائم ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام میں حیات شیرپاؤ کا کردار بنیادی نوعیت کا تھا، اور “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ ان کے دل کے قریب تھا کیونکہ وہ ہر شہری کے لیے باعزت اور محفوظ زندگی کے قائل تھے۔ صوبہ سرحد کے گورنر اور بعد ازاں سینئر وزیر کی حیثیت سے انہوں نے ایسی اصلاحات متعارف کرائیں جنہوں نے صوبے کی ترقی کی سمت متعین کی—تعلیمی اداروں کی توسیع، دیہی علاقوں تک بجلی کی فراہمی، اور بیوروکریسی کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کی کوششیں اسی وژن کا عملی اظہار تھیں۔

حیات شیرپاؤ کا ایک مشہور قول تھا: “اصل سیاست وہیں شروع ہوتی ہے جہاں عوام کا درد شروع ہوتا ہے۔” یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ان کی عملی سیاست کا خلاصہ تھا۔ وہ بغیر کسی نمود و نمائش کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے، کسانوں اور مزدوروں سے ملتے، ان کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے۔ ان کا یقین تھا کہ ریاست کی اصل قوت اس کے عوام ہوتے ہیں، اور جب عوام مضبوط ہوں تو ریاست خود بخود مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہی خلوص اور قربت انہیں عوام کے دلوں میں ممتاز مقام دلانے کا باعث بنی۔

ان کی سوچ صرف صوبائی نہیں بلکہ قومی سطح کی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام صوبوں کے ساتھ برابری اور احترام کا سلوک کیا جائے۔ ان کے نزدیک صوبائی خودمختاری ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی مضبوطی کی علامت تھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر احساسِ محرومی کم کر دیا جائے تو استحکام فطری طور پر جنم لیتا ہے، کیونکہ کسی بھی ریاست کی سلامتی کا انحصار عوامی انصاف پر ہوتا ہے۔

تعلیم پر ان کا اعتماد غیر معمولی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ پختون معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے جامعہ پشاور کی توسیع، فنی اداروں کے قیام اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کی بھرپور حمایت کی، جو اس زمانے میں ایک ترقی پسند اور جرات مندانہ موقف تھا۔ نوجوانوں کے ساتھ ان کا تعلق نمائشی نہیں بلکہ فکری تھا؛ وہ ان کے خواب سنتے اور انہیں حقیقت میں ڈھالنے کی راہیں دکھاتے۔

بیشمار خطرات کے باوجود عوام کے درمیان بغیر کسی سیکیورٹی اور پروٹوکول کے رہنا ان کی پہچان تھا، اور بدقسمتی سے عوام دشمن عناصر نے اسی عوام دوستی سے فائدہ اٹھا کر انہیں شہید کر دیا۔ یہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں تھی بلکہ ایک معتدل، اصول پسند اور ترقی پسند آواز کے خاتمے کی کوشش تھی۔

آج بھی خصوصاً خیبر پختونخوا میں ان کے دور کے کئی منصوبے ان کے وژن کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان کا اصل ورثہ عمارتوں میں نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں محفوظ ہے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے وقار اور تسلسل کے ساتھ ان کے نظریات اور مشن کو آگے بڑھایا اور آج بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔ اپنے ادوارِ حکومت میں انہوں نے عوامی فلاح پر مبنی ایسے عملی اقدامات کیے جنہوں نے صوبے کی سیاست اور طرزِ حکمرانی پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ آج اسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوان سکندر شیرپاؤ بھی پوری ایمانداری، عزم اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ تسلسل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حیات شیرپاؤ کی روح عوام میں تھی اور آج بھی زندہ ہے۔

حیات شیرپاؤ نے سیاست کے تصور کو نئی جہت دی، طاقت سے خدمت کی طرف، ذاتی مفاد سے اجتماعی بھلائی کی طرف، اور محض گفتار سے عملی اقدام کی طرف۔ وہ اس حقیقت کی عملی مثال تھے کہ اصل قیادت اقتدار کی کرسی سے نہیں بلکہ عوام کے درمیان کھڑے ہو کر ان کے دکھ درد کو سمجھنے سے جنم لیتی ہے۔

8 فروری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ حیات شیرپاؤ جیسے لوگ تاریخ میں کھو نہیں جاتے بلکہ وہ ایسے معیار بن جاتے ہیں جن پر ہر دور کی سیاست کو پرکھا جاتا ہے۔ آج جب پختون ایک مشکل اور آزمائشی مرحلے سے گزر رہے ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ کھوکھلے نعروں اور شخصیت پرستی سے آگے بڑھ کر ایسی قیادت کی طرف دیکھیں جو تعمیری سوچ، سنجیدگی اور عملی خدمت پر یقین رکھتی ہو۔ ایسی قیادت جو ذاتی مفادات کے بجائے عوام کے امن، ترقی اور اجتماعی بھلائی کو مقدم سمجھے، اور جس کا ماضی اصولی جدوجہد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا آئینہ دار ہو۔ اس تناظر میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ ایک ایسی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جو پختون عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے حل کے لیے تجربہ اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات بالغ نظری، ذمہ داری اور دوراندیش فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ مستقبل میں لغزش کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔