مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اب محض علاقائی بحران نہیں رہی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے مضمرات سب سے زیادہ اُن ممالک کو متاثر کریں گے جو توانائی کیلئے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان بھی ان معیشتوں میں شامل ہے، جو پہلے ہی محدود مالی گنجائش، مہنگائی اور دباؤ کا شکار زرِ مبادلہ ذخائر جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی پاکستان جیسے ملک کیلئےبڑا دھچکا ثابت ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب برینٹ آئل کی قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچتی ہے تو پاکستان کا درآمدی بل اربوں ڈالر بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 70 تا 80 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جس میں تیل کا نمایاں کردار ہے۔ ایسی صورت میں قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی 20 فیصد کے قریب رہ چکی ہے، جبکہ بعض ادوار میں یہ 30 فیصد کی حد کو بھی عبور کر گئی۔ اگر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں، جس سے عام شہری کی قوتِ خرید مزید کمزور پڑ جائے گی۔
پاکستانی معیشت کا ایک بڑا سہارا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہیں، جو اسوقت سالانہ تقریبا 30 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 55 تا 60 فیصد ترسیلات خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے آتی ہیں، جہاں اندازاً 45 سے 50 لاکھ پاکستانی محنت کش مقیم ہیں۔
اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طول پکڑتی ہے تو ان ممالک کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہونگی، جس کے نتیجے میں پاکستانی افرادی قوت کے روزگار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی عدم استحکام کے دوران نہ صرف نئی بھرتیاں رک جاتی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں بڑے پیمانے پر واپسی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایسی کسی بھی صورتحال میں ترسیلاتِ زر میں کمی پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر براہِ راست دباؤ ڈالے گی، جو پہلے ہی بمشکل چند ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھتا ہے، جس کا براہِ راست اثر تجارتی خسارے پر پڑتا ہے۔ پاکستان کا سالانہ درآمدی بل عموماً 50 سے 60 ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے، جس میں توانائی کا حصہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو یہ خسارہ مزید بڑھ کر کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالتا ہے، جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے: مہنگی درآمدات، کمزور کرنسی، بڑھتی مہنگائی اور گرتی ہوئی قوتِ خرید یہ سب مل کر معاشی عدم استحکام کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران پاکستان کیلئےصرف معاشی نہیں بلکہ سفارتی امتحان بھی ہے۔ ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں، تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ سرحدی، تجارتی اور سکیورٹی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ تعلقات اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔
پاکستان اسوقت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور سفارتی سطح پر توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم آنے والے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ حکومت دور اندیشی کے ساتھ منصوبہ بندی کرے، ممکنہ معاشی دباؤ کے لیے پیشگی اقدامات کرے سفارتی حکمت عملی کو مزید مضبوط ،متوازن اور محتاط بنائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علاقائی تنازعات میں فریق بننے کے نتائج اکثر اندرونی سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی چیلنجز کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
پاکستان پہلے ہی مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی اور مغربی سرحد پر افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات داخلی سکیورٹی پر بھی پڑتے ہیں تو ریاستی وسائل پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ شدت پسندی کے امکانات، سرحدی مسائل اور داخلی بے چینی جیسے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ حالات میں پاکستان کیلئے چند فوری اور طویل المدتی اقدامات ناگزیر ہیں۔جن میں توانائی کے متبادل ذرائع جیسے قابلِ تجدید توانائی (سولر اور ونڈ) پر تیزی سے منتقل ہونا ہوگا تاکہ درآمدی انحصار کم کیا جا سکے، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہنگامی حالات میں وقتی ریلیف حاصل ہو سکے،ترسیلاتِ زر کے ذرائع کو متنوع بنانے اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دی جائے۔
پاکستان سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے دوست ممالک ترکی، سعودی عرب ایران کو اعتماد میں لے اور فوری طور پرجنگ بندی کروائی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے اثرات سے پاکستان مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ تاہم دانشمندانہ پالیسی، بروقت فیصلے اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے ان اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ تدبر، حکمت اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کا ہے۔
اگر پاکستان اس نازک مرحلے پر دوراندیشی کا مظاہرہ کرتا ہے تو نہ صرف وہ ممکنہ معاشی اور سفارتی خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کیلئے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا مثبت کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

