مکہ مکرمہ:ویب ڈیسک مسجد الحرام کے امام اور خطیب شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی نےحج کے خطبے میں حاجیوں سے اسرائیلی جارحیت کے شکار فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعا کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی بھائیوں کے لیے خوب دعا کریں، وہ اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ “جن لوگوں نے ان (فلسطینیوں) کی خوراک اور دیگر اشیا سے مدد کی، انہوں نے نیک کام کیا۔”
فلسطینیوں کی مشکلات کا ذکر:
ڈاکٹر ماہر نے خطبہ حج میں کہا کہ فلسطینی بھائیوں کے لیے دعا کریں جو مصیبتوں میں ہیں، جیسا کہ فلسطین جہاں جنگ پہنچ چکی ہے، وہاں پانی، بجلی اور کھانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی مدد کے لیے دعا کرنا بہت ضروری ہے۔
میدان عرفات میں لاکھوں عازمین کی موجودگی:
حج کے لیے موجود لاکھوں عازمین آج مکہ مکرمہ میں واقع میدان عرفات میں موجود تھے، جہاں مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا گیا۔ مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ماہر بن حمد المعیقلی نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیا، جسے اردو سمیت 50 زبانوں میں نشر کیا گیا۔
قرآن اور اسلام کی تعلیمات پر زور:
خطبہ حج میں امام شیخ ماہر بن حمد المعیقلی نے قرآن کی تعلیمات پر زور دیا اور کہا کہ قرآن کہتا ہے جو ظلم کرتا ہے اس کی پکڑ ہوگی۔ مسلمان خود کو شیطان کے دھوکوں اور وسوسوں سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جس زمانے اور جگہ پر مسلمان ہوں، ان پر لازم ہے کہ وہ مقاصد شریعہ کو پورا کریں، اسلام کے ارکان کی پیروی میں ہدایت موجود ہے۔
اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داریاں:
شیخ ڈاکٹر ماہر نے کہا کہ اسلام فحاشی اور برائی سے منع کرتا ہے اور امانت میں خیانت سے روکتا ہے۔ مومنین کو اللہ تعالی کی قربت کے لیے صلح رحمی اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “آپ اپنے لیے، اپنے اہل وعیال اور جن کا آپ پر احسان ہے، ان کے لیے دعا کریں۔”
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور تقویٰ کا راستہ:
شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے۔ انسان کو تقویٰ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، یہی فلاح و کامیابی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی کہیں تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے، جو تقویٰ کا راستہ اختیار کرے گا، اللہ اس کی خطاؤں کو معاف کر دے گا۔
اللہ پر توکل اور نماز کی اہمیت:
امام شیخ ماہر نے کہا کہ اللہ ہر چیز کا مالک و قادر ہے، قرآن سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ “اللہ پر توکل کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اللہ کی وحدانیت پر یقین اسلام کا پہلا رکن ہے۔ اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ “قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے لوگوں نماز کو قائم کرو، اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے والوں کے گھروں پر رحمت فرماتا ہے۔”
حج بیت اللہ اور زکوٰۃ کی اہمیت:
امام شیخ ماہر نے کہا کہ صاحب استطاعت، طاقت رکھنے والے پر حج بیت اللہ لازم ہے۔ زکوٰۃ ادا کریں اور حقوق العباد کا خیال رکھیں۔ “قرآن میں لوگوں کے لیے ہدایت موجود ہے۔ اسلام کی بنیاد خیر و فلاح پر ہے۔ اسلام کسی کو نقصان پہنچانے کا حکم نہیں دیتا، انسان کو خیر کے راستے پر چلنا چاہیے۔”
حج کے مناسک کی ادائیگی:
خطبہ حج کی ادائیگی کے بعد عازمین نے ظہر اور عصر کی نماز مسجد نمرہ میں ایک ساتھ ادا کی۔ جمعہ 14 جون سے مناسک حج کا آغاز ہوا اور دنیا بھر سے لاکھوں عازمین مکہ مکرمہ پہنچ کر اپنا دینی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ حج اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور مالی اور جسمانی طور پر استطاعت رکھنے والے بالغ مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اس مذہبی فریضے کو ادا کرے۔
پاکستانی حاجیوں کی تعداد:
اس سال ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج ادا کر رہے ہیں، جن میں سے 70 ہزار 105 سرکاری جبکہ 80 ہزار سے زائد نجی عازمین شامل ہیں۔
حج کے خطبے میں شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی کی فلسطینی بھائیوں کے لیے دعا کی درخواست ایک اہم پیغام تھا جو عازمین حج اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے تھا۔ یہ خطبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان بھائی چارے اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ حج کا یہ مقدس موقع ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور ہمیں اسلام کی حقیقی روح کی پیروی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

