نیویارک (نمائندہ خصوصی) – نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین سیاست، عدلیہ، سول سروس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج سمیت مختلف شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو خواتین پر چوتھی عالمی کانفرنس کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ نے اپنی تقریر میں 30 سال قبل بیجنگ میں کیے گئے تاریخی عہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس ان وعدوں کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے جسے جرات مندانہ اور قابلِ پیمائش اقدامات سے پورا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کوئی قوم اس وقت تک عظمت حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کے انتخاب کا اعزاز رکھتا ہے اور حال ہی میں پنجاب میں پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی عمل میں آیا۔ انہوں نے خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کیا، جن میں قومی و صوبائی کمشنز برائے خواتین، صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتیں، خواتین پولیس اسٹیشنز اور ہراسانی و امتیاز کے خلاف قوانین شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی تحفظ کے منصوبے، جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور وزیراعظم یوتھ پروگرام، خواتین کو غربت پر قابو پانے، مالی وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور کاروباری مواقع پیدا کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ بیجنگ+30 ایکشن ایجنڈا کے تحت تیز تر تبدیلی ناگزیر ہے اور اس کے لیے قومی بجٹ، بین الاقوامی تعاون اور جدید شراکت داریوں کے ذریعے مالی وسائل بڑھانے ہوں گے تاکہ کیے گئے وعدے عملی شکل اختیار کر سکیں۔ انہوں نے بیجنگ ڈیکلیریشن کو خواتین کے حقوق کے لیے دنیا کا سب سے جرات مندانہ عالمی معاہدہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری اور یکجہتی کے ساتھ ایسے اقدامات کرے جن سے ہر عورت اور لڑکی غربت اور تشدد سے آزاد ہو کر ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
“دولتِ مشترکہ اجلاس”
قبل ازیں وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ دولتِ مشترکہ وزرائے خارجہ کے اجلاس (سی فام) میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان دولتِ مشترکہ کی حمایت اور اس منفرد پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں تنظیم کو مؤثر طور پر جواب دینا ہوگا اور اپنے رکن ممالک کو عملی فوائد پہنچانے کیلئےاقدامات کرنا ہوں گے۔ وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ دولتِ مشترکہ امن قائم رکھنے اور مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے تاکہ تعاون اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تنازعات کے حل اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا جا سکے۔

