خیبر پختونخوا ، بحران کے دہانے پر مگر حقیقی رہنما ابھی باقی ہیں

خیبر پختونخوا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑاکر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے ملک کے سب سے حساس صوبے کے لیے ایک کم عمر، جذباتی اور غیر تجربہ کار وزیرِ اعلیٰ کی نامزدگی نے سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبہ پہلے ہی بدامنی، کمزور معیشت اور ادارہ جاتی زوال سے دوچار ہے، یہ فیصلہ مفاہمت کے بجائے تصادم کی راہ پر چلنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اس نازک مرحلے پر صوبے کو ایک سمجھدار اور سنجیدہ قیادت کی ضرورت تھی جو عوام کے اعتماد کو بحال کرے، اداروں کو مضبوط بنائے اور عوام کو سکون و سہولت فراہم کرے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اور اگر انہیں مثبت سمت میں رہنمائی دی جائے تو وہ ترقی، امن اور استحکام کے ضامن بن سکتے ہیں۔ بہتر ہوتا اگر عمران خان کسی ایسے نوجوان کو قیادت کے لیے اس بنیاد پر نامزد کرتے جس کا مقصد امن، ترقی اور عوامی خدمت ہوتا تو یقیناً اسے وسیع پذیرائی حاصل ہوتی، لیکن انہوں نے دانستہ طور پر ایسے نوجوان کو سامنے لایا جس کا واحد مقصد نوجوانوں کو سڑکوں پر احتجاج اور تصادم کے لیے اُکسانا ہے اور جو خود بھی اس رویّے کا بارہا اظہار کر چکا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان اور ان کی جماعت نے سیاست کو احتجاج اور محاذ آرائی تک محدود کر دیا ہے، اور صوبے میں تیرہ سال سے اقتدار میں ہونے کے باوجود وہ طرزِ حکمرانی اختیار کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے مسلسل تصادم کی سیاست میں مصروف ہیں۔

اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں بھی عمران خان اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی میں مبتلا رہے۔ جب بھی اپوزیشن نے معیشت، پارلیمانی اخلاقیات یا قومی میثاق کی بات کی، اسے این آر او کا مطالبہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا اور اپوزیشن رہنماوں کا مذاق اڑایا گیا ـ۔ نتیجتاً ان کی حکومت اصلاحات، گورننس اور عوامی فلاح کے بجائے سیاسی تنازعات میں الجھی رہی۔ یہی رویّہ اب خیبر پختونخوا میں بھی نظر آ رہا ہے۔ صوبے کی نئی قیادت نے اقتدار سنبھالتے ہی مصالحت کے بجائے محاذ آرائی کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے۔ نئے وزیرِ اعلیٰ نے اپنے اولین بیانات میں خود کو احتجاج اور تحریکوں کا چمپین قرار دیا، جب کہ ان کے اردگرد موجود رہنما، خصوصاً جنید اکبر جیسے افراد، ریاستی اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسے اشتعال انگیز بیانات کہ اگر عمران خان کو رہا نہ کیا گیا تو کارکنان سرکاری اہلکاروں کے گھروں تک پہنچ جائیں گے، دراصل جمہوری سیاست نہیں بلکہ انارکی کا مظہر ہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویّے ایک ایسے صوبے کے لیے زہرِ قاتل ہیں جو پہلے ہی دہشت گردی، بدامنی اور معاشی زوال سے نبرد آزما ہے۔

خیبر پختونخوا کی تاریخ قربانیوں اور استقامت سے لبریز ہے۔ برطانوی دور سے لے کر افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، اس صوبے نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع میں اولین کردار ادا کیا ہے۔ اس کے عوام نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دیں مگر ان کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔ افسوس کہ اس صوبے کو ہمیشہ سیاسی تجربات کی لیبارٹری کے طور پر استعمال کیا گیا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے لگتے رہے، مگر عام شہری کی زندگی میں بہتری نہ آ سکی۔ جمہوریت میں عوام کے مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے، لیکن یہ مینڈیٹ ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ کوئی جماعت اگر اکثریت لے کر حکومت میں آتی ہے تو اسے اُن عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھنا چاہیے جنہوں نے اسے ووٹ نہیں دیا۔ قیادت کا اصل امتحان اقتدار حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اسے تدبّر، رواداری اور عوامی خدمت کے ساتھ چلانے میں ہوتا ہے۔

ایسے وقت میں جب صوبہ عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، وہاں آفتاب احمد خان شیرپاؤ جیسی شخصیات امید کی کرن بن سکتی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک مدبر، دور اندیش اور تجربہ کار رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے ان کا دور نظم و ضبط، توازن اور عوامی خدمت کی بہترین مثال تھا۔ ان کی سیاست ہمیشہ انتقام سے پاک، مفاہمت پر مبنی اور زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ رہی۔ عوام آج بھی ان کے دور کو امن، ترقی اور ادارہ جاتی استحکام کے زمانے کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر طبقے اور سیاسی مکتبِ فکر کے لوگوں سے مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نفرت یا محاذ آرائی کے بجائے اتفاقِ رائے سے مسائل حل کرنے کے قائل ہیں، اور یہی رویّہ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ان کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان اور اسفندیار ولی خان جیسے رہنما بھی ایسے سنجیدہ اور متوازن سیاستدان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مکالمے، ادارہ جاتی عمل اور جمہوری تسلسل کو ترجیح دی۔ مولانا فضل الرحمان سیاسی بصیرت رکھتے ہیں اور ہمیشہ قومی ہم آہنگی کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ اسفندیار ولی خان اگرچہ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، مگر ان کی بصیرت اور تجربہ آج بھی خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں۔ دونوں رہنما استحکام، اداروں کے احترام اور جمہوری تسلسل کی سیاست کے نمائندہ ہیں۔ ان جیسے تجربہ کار اور زیرک سیاستدانوں کو ایک منصوبے کے تحت پیھچے دھکلنے سے پختونخواہ کی سیاست کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ سینیئر سیاستدانوں جیسے بیرسٹر مسعود کوثر، غلام احمد بلور، امیر حیدر خان ہوتی، میاں افتخار حسین، ہمایون خان، سراج الحق، اکرم خان درانی ، پرویز خٹک اور محسن داوڑ جیسی شخصیات بھی ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے تجربے، بصیرت اور سیاسی اعتدال سے صوبے میں مفاہمت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے اندر بھی ایسے سنجیدہ، سمجھدار اور تجربہ کار رہنما موجود ہیں جو اگر سامنے آئیں تو سیاسی درجہ حرارت کو کم کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی اور اسد قیصر جیسے رہنما حالات کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان معتدل آوازوں کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے اور ان کی جگہ جذباتی عناصر کو آگے لایا گیا ہے۔ اگر ان سنجیدہ اور متوازن رہنماؤں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا کو اب اجتماعی دانش، تحمل اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک غیر جانبدار مشاورتی فورم تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں تمام جماعتوں کے معتبر رہنما، سابق بیوروکریٹس، ماہرینِ تعلیم، ججز اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہوں۔ یہ فورم باقاعدگی سے اجلاس کرے اور صوبے کے اہم ترین مسائل جیسے امن و امان، بے روزگاری، معیشت کی بحالی اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے پالیسی تجاویز پیش کرے۔ یہ ادارہ پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو اور ایسی پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھے جو حکومتوں کے بدلنے سے متاثر نہ ہوں۔

عمران خان کو بھی سمجھنا ہوگا کہ قیادت کا مطلب انا نہیں بلکہ عاجزی ہے۔ سیاست دشمنی یا انتقام کا نہیں، بلکہ خدمت اور تحمل کا نام ہے۔ اگر وہ واقعی عوام کی خدمت کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنی صوبائی حکومت کو احتجاج اور تصادم کی راہ سے ہٹا کر خدمت، ترقی اور استحکام کی سمت لانا ہوگا۔ عوام کو روزگار، تحفظ اور سکون چاہیے، نہ کہ نعرے اور ہنگامے۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے استحکام کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان قربانیوں کا صلہ انہیں بہتر طرزِ حکومت، انصاف اور امن کی صورت میں دیا جائے۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی متوازن قیادت، مولانا فضل الرحمان، اسفندیار ولی خان اور دیگر سنجیدہ رہنماؤں بشمول تحریکِ انصاف کے معتدل عناصر کی شمولیت سے صوبہ دوبارہ ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ وقت کم ہے مگر امید ابھی باقی ہے۔ اگر سیاسی قیادت ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر عوام اور صوبے کے مستقبل کو ترجیح دے تو خیبر پختونخوا ایک بار پھر امن، ترقی اور وقار کی راہ پر واپس آ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں