خیبر پختونخوا حکومت کا 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کیلئےانکوائری کمیشن بنانے کا اعلان

پشاور(نامہ نگار)خیبر پختونخوا کے وزیر برائے مقامی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی مینا خان آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں 9 مئی 2023 کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کریگی۔

یہ اعلان انہوں نے پشاور میں وزیراعلیٰ کے مشیر شفیع اللہ جان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ “چونکہ ریڈیو پاکستان کی عمارت خیبر پختونخوا میں واقع ہے اور ہمارے دائرہ اختیار میں آتی ہے، اس لیے ہماری پہلی کابینہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن اس بات کی چھان بین کرے گا کہ “ریڈیو پاکستان کی عمارت میں جو کچھ ہوا، اس کے پیچھے کون لوگ تھے، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ دروازے کس نے کھولے اور فوٹیج اب تک منظرِ عام پر کیوں نہیں لائی گئی۔”

مینا خان آفریدی نے اس ویڈیو پر بھی ردعمل دیا جس میں مبینہ طور پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو 9 مئی کے فسادات کے دوران لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ “وزیراعلیٰ اُس وقت پشاور میں موجود تھے۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات برائے خیبر پختونخوا امور، اختیار ولی خان، نے ایک روز قبل جھوٹی ویڈیو دکھا کر گمراہ کن تاثر دیا۔”

انہوں نے کہا کہ “9 مئی ایک ایسا جال ہے جس کے ذریعے پی ٹی آئی اور عمران خان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ بہانہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔”

وزیراعلیٰ کے مشیر شفیع اللہ جان نے بھی اختیار ولی خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو ویڈیو دکھائی وہ “ایڈیٹ شدہ اور جعلی تھی۔”

انہوں نے کہا کہ “یہ ویڈیو دراصل مارچ 2023 کی ہے، جب زمان پارک لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی کے بانی کی گرفتاری کی کوشش کی تھی۔ اس ویڈیو میں ہمارے کارکنوں پر واٹر کینن کے استعمال کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔”انہوں نے خبردار کیا کہ “جو کوئی بھی جھوٹی ویڈیو استعمال کریگا، پی ٹی آئی اسے منہ توڑ جواب دیگی۔”

اپنا تبصرہ لکھیں