اسلام آباد / شمالی وزیرستان / کرم (آئی ایس پی آر، ریڈیو پاکستان)انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں 8 جنوری کو کی گئیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شمالی وزیرستان ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس دوران فوجی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق کرم ضلع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جو سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے تھے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔
دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائیوں پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رکھی جائے گی۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، سرکاری ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا۔

