پشاور (نامہ نگار)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج پشاور میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کو ایک عظیم، خوبصورت اور غیرت مند صوبہ قرار دیا۔
جرگے میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، گورنر فیصل کریم کنڈی سمیت سیاسی، عسکری و قبائلی قیادت کی بڑی تعداد شریک تھی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے 1947 سے لے کر آج تک پاکستان کے دفاع اور بقاء کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ “آپ نے ہمیشہ پاکستان کا پرچم بلند رکھا، جب بھی وطن عزیز کو پکارا گیا، خیبرپختونخوا کے غیور عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی”، وزیراعظم کا کہنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس ہو یا دہشتگردی کی دیگر ہولناک کارروائیاں، خیبرپختونخوا نے ہمیشہ اول صف میں قربانیاں دیں۔ “یہ وہ سچائیاں ہیں جو مورخ ہمیشہ سنہری حروف میں رقم کرے گا۔”
جرگے میں قبائلی عمائدین کی گفتگو کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی سطح پر اتفاق رائے کے ساتھ فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے ازسرنو جائزے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا کے حصے کے تعین کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائیگی اور اگست میں این ایف سی سے متعلق پہلی میٹنگ طلب کی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پہلی مرتبہ دہشتگردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا کیلئے اضافی وسائل مختص کیے گئے، اور اب تک 700 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں۔ یہ معاونت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔
انہوں نے بلوچستان کو بھی اس ضمن میں شامل نہ کیے جانے پر توجہ دلائی اور اس معاملے پر آئندہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کے عوام کی حب الوطنی، قربانیوں اور پاکستان سے وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

