پشاور (نمائندہ خصوصی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی تبدیلی کی ضرورت ہے مگر یہ تحریک انصاف کے اندر سے آنی چاہیے، اپوزیشن کی جانب سے حکومت گرانا مناسب راستہ نہیں۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی آنی چاہیے، مگر چونکہ تحریک انصاف اسمبلی میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے تبدیلی کا آغاز ان کی اپنی صفوں سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اپوزیشن متحرک ہو کر حکومت تبدیل کر دے، اگر پی ٹی آئی کے اندر سے تبدیلی آتی ہے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی اکثریت جعلی ہے اور کہا کہ “ہم بوٹوں کے حضور بیٹھ کر اقتدار نہیں مانگیں گے۔”
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ خیبرپختونخوا مزید سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ “شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہے، لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ اگر اپوزیشن جماعتوں نے رابطہ کیا تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔”
انہوں نے تجویز دی کہ صوبے میں امن و امان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے تاکہ اجتماعی لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔سینیٹ انتخابات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی سیاسی جماعتوں سے بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے، اس پر تفصیل سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
وفاقی حکومت سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ “اگر میں حکومت کے فیصلوں سے متفق ہوتا تو ان کے ساتھ ہوتا۔ پی ڈی ایم ایک طرف اور حکومت دوسری طرف ہے۔ انتخابات میں اسمبلیوں کے ریٹ لگے، لوگ بکے، کیا میں بھی بکاؤ حکومت کا حصہ بنوں؟”
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ “اگر ملک پر جنگ مسلط کی گئی تو تمام شکووں کے باوجود ہم ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔”
عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ “کوئی سیاست دان جیل میں نہیں ہونا چاہیے لیکن سیاستدان جیل جاتا ہے۔ تحریکیں صرف رہائی کیلئےنہیں ہوتیں بلکہ بڑے مقاصد کیلئےہوتی ہیں۔ سیاستدان جیل سے باہر آکر سمجھوتے کر لیتے ہیں۔”
فاٹا کے انضمام پر شدید تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ “ہم نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ آپ بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ آئین میں ترامیم بغیر بحث کے کی گئیں، سیاسی جماعتیں کس دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کر رہی تھیں؟”
انہوں نے کہا کہ “فاٹا میں 125 سال سے کوئی زمینوں کا ریکارڈ نہیں ہے۔ فاٹا کے مستقبل پر جلد ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں مختلف مکاتب فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے 4 ہزار سے زائد افراد شریک ہوں گے۔”
خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ حکومت نہیں بلکہ بھتہ دینے والی حکومت ہے، یہ مسلح افراد کو ماہانہ بھتہ دیتی ہے، تب ہم ڈیرہ اسمٰعیل خان سمیت دیگر علاقوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔”

