پاکستان اس وقت ایک غیر روایتی جنگ کے دور سے گزر رہا ہے۔ دشمن کی یلغار صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی؛ اب وہ براہِ راست حملوں، پراکسی گروہوں کے ذریعے دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی انتشار اور ذہنی محاذوں پر ریاست کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس جنگ میں بندوق کے بجائے تاثر، افواہ اور بیانیہ اصل ہتھیار بن چکے ہیں ، ایک بڑا منصوبہ جس کا مقصد ریاست کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں دنیا کی بڑی ریاستیں ایسی ہی بیانیاتی جنگوں کا مقابلہ عقل، سچائی اور اتحاد سے کر چکی ہیں؛ آج پاکستان کو بھی اسی سطح کی سنجیدگی اور بصیرت درکار ہے۔
ملک کے دو صوبے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، اس جنگ کے سب سے نمایاں ہدف ہیں۔ بلوچستان اپنی قدرتی دولت، تزویراتی محلِ وقوع اور حساس سرحدوں کی وجہ سے دہائیوں سے بیرونی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کا طویل اور نازک بارڈر مخالف قوتوں کیلئے آسان رسائی فراہم کرتا ہے۔ ماضی کی محرومیوں، لسانی حساسیتوں اور تاریخی بیانیوں کو دشمن اپنے مفاد کیلئے بار بار استعمال کر رہا ہے۔ جہاں گولہ بارود بے اثر ہو جائے، وہاں ذہنوں کو فتح کرنے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے ، اور یہی آج کی جنگ کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرایع دشمن کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ جھوٹی خبریں، آدھے سچ اور نفرت انگیز مہمات نوجوانوں کے ذہنوں میں بدگمانی کے بیج بوتی ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں اور افراد کے گرد اندھی عقیدت نے تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے؛ بعض نوجوان شخصیات کو ریاست سے بڑھ کر اہم سمجھنے لگتے ہیں، جو اجتماعی شعور کو کمزور کر کے دشمن کیلئےخلا پیدا کرتا ہے۔
بلوچستان میں 1948 کے بعد کے تنازعات، 1970 کی دہائی کی بغاوتیں اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلہ دشمن کیلئےبیانیاتی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں کچھ حلقے بیرونی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر پاکستان مخالف رجحانات اپناتے رہے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر اندرونی اختلافات دشمن کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ قوم کیلئے سب سے مہلک ہتھیار بن سکتے ہیں ، 1971 کی مثال ابھی بھی سامنے ہے، جب اندرونی انتشار بیرونی طاقتوں کے ذریعہ استعمال ہوا۔
یہ صورتِ حال عالمگیر بھی ہے اور نئی نہیں۔ دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے برطانیہ کیخلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا مہم چلائی؛ ریڈیو نشریات اور پمفلٹس کے ذریعے لندن کے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ برطانیہ نے وزارتِ اطلاعات کے تحت فوری، سچ پر مبنی جوابی مہم چلائی اور ’’پُر سکون رہو اور آگے بڑھو‘‘ جیسے پیغامات نے پروپیگنڈا کے اثر کو کم کر کے عوام کو متحد کیا۔ فرانس میں وِشی دور کے دوران مزاحمتی تحریکوں نے خفیہ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے عوامی حوصلہ برقرار رکھا اور جنگ کے بعد ایک نئے قومی بیانیے نے ملک کو دوبارہ یکجا کیا۔
سرد جنگ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف بیانیاتی مقابلہ ایک مربوط پالیسی کے تحت کیا۔ سوویت بیانیے نے مغرب کو ’’استحصالی سامراج‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی مگر امریکہ نے ریڈیو، بین الاقوامی تعلیمی تبادلوں، ثقافتی پروگراموں اور میڈیا کے ذریعے اپنا بیانیہ موثر انداز میں پھیلایا۔ نتیجتاً مغربی بیانیہ نسبتاً زیادہ پرکشش اور دیرپا ثابت ہوا۔ اس کے برعکس، سوویت یونین نے بھی مضبوط پروپیگنڈا کیا مگر جب بیانیہ سخت گیر اور حقائق سے دور ہوا تو عوامی اعتماد متاثر ہوا اور آخرکار نظام کمزور پڑ گیا۔
کمیونسٹ ممالک اور سامراجی طاقتوں کے بیچ بیانیاتی تصادم بھی کئی خطوں میں جاری رہا؛ ویتنام، کیوبا اور دیگر جگہوں پر پروپیگنڈے نے اثر دکھایا اور مغربی ممالک نے ترقیاتی امداد، تعلیمی پروگرام اور عوامی رابطوں کے ذریعے جواب دیا۔ فُلبرائٹ پروگرام اور امن کے رضاکارانہ منصوبے بیانیاتی حکمتِ عملی کے مؤثر اوزار ثابت ہوئے۔ ان تمام مثالوں کا مشترک سبق یہی ہے کہ پروپیگنڈا کا مؤثر مقابلہ خاموشی یا سنسرشپ سے نہیں بلکہ شفاف، بروقت اور حقائق پر مبنی بیانیے سے ممکن ہے۔
پاکستان کیلئےیہ صرف دفاعی جنگ نہیں بلکہ ایک ذہنی و معلوماتی محاذ ہے، جسے جیتنے کیلئے منظم، شفاف اور ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ قومی سطح پر ایک ایسا بیانیہ مرکز قائم کیا جانا چاہیے جو حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے جھوٹی خبروں، افواہوں اور بیرونی پروپیگنڈے کا بروقت، مربوط اور ٹھوس جواب دے۔ یہ ادارہ محض ردعمل تک محدود نہ رہے بلکہ بیانیے کی سمت متعین کر کے قوم میں فکری یکجہتی پیدا کرنے کا حقیقی مرکز بنے۔
تعلیمی نصاب میں میڈیا فہم، تنقیدی سوچ اور قومی تاریخ کو مضبوط بنیادوں پر شامل کرنا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان تحقیق، دلیل اور شواہد کی بنیاد پر رائے قائم کریں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ملکی میڈیا اداروں کے ساتھ شراکت کے ذریعے مؤثر فیکٹ چیکنگ نظام اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں، تاکہ جھوٹے بیانیے جڑ پکڑنے سے پہلے ختم کیے جا سکیں۔ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے پیغامات کو منظم عوامی مواصلات کے ذریعے پھیلایا جائے تاکہ دشمن کے پروپیگنڈے کا اثر کم ہو۔
اہلِ قلم اور صحافیوں کا کردار اس محاذ پر کلیدی ہے؛ ریاست کو چاہیے کہ وہ اُن صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو مکمل قانونی اور جسمانی تحفظ فراہم کرے جو ملک کے نظریاتی دفاع میں اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ انہیں قانونی معاونت، حفاظتی فریم ورک اور پیشہ ورانہ تربیت دی جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر حقائق عوام تک پہنچا سکیں۔
سرحدی علاقوں میں محرومیوں اور عدم مساوات کے خاتمے کیلئے روزگار، تعلیم اور سماجی ترقی کے منصوبے تیزی سے نافذ کیے جائیں، کیونکہ دشمن عموماً انہی کمزور جگہوں سے بیانیہ پروان چڑھاتا ہے۔ علاوہ ازیں ملکی نرم طاقت اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے پڑوسی ممالک اور علاقائی فریقوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے تاکہ سرحدی کشیدگیوں کے سیاسی حل کے راستے کھل سکیں۔ جب ایک ریاست اندر سے متحد اور باہر سے فعال ہو تو بیرونی پروپیگنڈا کمزور پڑ جاتا ہے۔
تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بیانیہ ہوتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ اور دیگر ممالک نے پروپیگنڈے کا مقابلہ حکمتِ عملی اور اتحاد سے کیا اور کامیابی پائی۔ پاکستان کیلئےبھی یہی وقت ہے کہ بیانیے کو محض دفاعی ڈھال نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک مؤثر ہتھیار بنایا جائے۔ جب ریاست، صحافت اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو کوئی دشمن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ملک ہمیشہ مقدم ہے ، شخصیات، جماعتیں اور نظریات سب اس کے بعد آتے ہیں۔

