دفاعی لحاظ سے بھی سوچیں!

ملک میں جاری سیلاب کی وجہ سے کسی دوسرے موضوع پر طبع آزمائی کی گنجائش ہی نہیں ہے اور سیلاب کے حوالے سے کافی لکھا جا چکا اور الیکٹرونک میڈیابھی مسلسل حالات سے آگاہ کر رہا ہے۔ آج صبح سے یہاں بھی بارش کا سلسلہ شروع ہے۔ میرے گھر کے باہر گلی میں پانی بھر چکا ہے۔ میرے دونوں پوتے کچھ دیر پہلے میرے پاس آئے۔ بڑا محمد اشعر کہنے لگا، دادا ابو! اوپر چلیں، گلی میں پانی بھر چکا، وہ اندر بھی آجائے گا، میں نے اسے تسلی دی کہ ایسا نہیں ہوگا، اللہ بہتر کرے گا۔ چھوٹا بیٹا محمد ریحان ذرا تعجب سے پوچھنے لگا، آپ نے یہ زور والی آواز سنی، میں نے بتایا بیٹے یہ بادل گرج رہے اور انہی کی آواز ہے۔ چھوٹا سمجھ نہ سکا تو مجھے ٹھہر ٹھہر کر بتانا پڑا، وجہ یہ تھی کہ پہلے بارش بھی کم ہوتی اور بادل کی گھن گرج بھی سنائی نہ دیتی تھی، لیکن اس بار چھم چھم والی بات ہے بچے کچھ اورپوچھ اور سوچ رہے تھے، میں ماضی کے ادوار کے تجربات کی بدولت سوچ رہا تھا کہ جو افراد جان بچا کر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں، ان کی سوچ کا انداز کیا ہوگا جس بڑے پیمانے پر یہ امتحان کی گھڑی آئی ہے اس کی وجہ سے تو ہر فرد تک امداد پہنچنا اور ان سب کو پناہ کے لئے چھت مہیا کرنا بھی مشکل ہے، ان حالات میں مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی دکھ ہوتا اور شرم محسوس ہو رہی ہے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمارے شہریوں میں بھی وہ جذبہ نہیں جو ماضی میں ایسے مواقع پر دیکھا گیا، اگرچہ بعض مقامات پر شہریوں کی طرف سے خوراک مہیا کی گئی لیکن یہ بہت ناکافی ہے یہ تو میلاد مصطفیؐ کا مہینہ ہے ، اس مبارک موقع پر تو نیازیں تقسیم ہوتی ہیں لیکن سیلاب زدگان کے لئے جذبہ کیوں نہیں جاگا، یہ بھی سوالیہ نہیں ہے ،بہرحال یقین ہے کہ میڈیا کی وجہ سے پیارے بھائیوں کا احساس ضرور جاگے گا یوں بھی اگر میلاد والی نیاز کا رخ سیلاب زدگان کی طرف موڑ دیاجائے تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوگا، اللہ ہماری مدد فرمائے۔
اس حوالے سے بہت کچھ دکھایا اور لکھا جا چکا، تاہم ابھی کئی پہلو ایسے ہیں جن پر غور کی ضرورت ہے، میں ابتداء ہی سے سوچ رہا اور محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے فوجی ترجمان کی طرف سے وضاحت کے بعد بھی ہم سب کی توجہ اس پہلو کی طرف کیوں نہیں گئی۔ فوجی ترجمان نے ابتداء ہی میں بتا دیا تھا کہ اس فطرتی آفت یا عمل کے باوجود افواج پاکستان دفاع سے غافل نہیں اور ہر دفاعی پوائنٹ پر نوجوان موجود ہیں۔ ہمارے دانشور دفاعی تجزیہ نگار کرنل غلام جیلانی خان اپنے کالموں کے ذریعے حالیہ پاک بھارت پانچ روزہ جھڑپ کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بتا چکے ہیں کہ دور جدید میں لڑائی جدید سائنسی ایجادات سے لڑی جائے گی او رلڑی گئی کہ اب زمانہ ڈرونز، میزائل اور لڑاکا طیاروں کا ہے، اس کی وجہ سے انفنٹری کی حیثیت وہ نہیں رہی جو سابقہ دو عالمی جنگوں یا 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں تھی، تاہم انفنٹری (پیدل فوج) سے مفر بھی نہیں کہ اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، قارئین! اس طرف توجہ دلانے سے میرا مقصد یہ ہے کہ دفاعی پہلو کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ برسات، گلیشیر پگھلنے کے علاوہ بھارت کی طرف سے اپنے ذخائر سے پانی چھوڑنے کے عمل نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ جمع شدہ پانی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور ہنگامی حالات میں حالیہ عمل بھارت کی طرف سے حکمت عملی کے تحت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور حالات حاضرہ بتاتے ہیں کہ نہ صرف ستلج راوی اورچناب بلکہ جہلم کا منبع بھی بھارت میں ہے اور ان سب میں سیلابی کیفیت پیدا کرکے مسائل پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ مجھے یہ تو یقین ہے کہ ہماری مسلح افواج کی نظر سے یہ پہلو اوجھل نہیں اور اسی لئے فوجی ترجمان نے ابتداء ہی سے بتا دیا کہ مسلح افواج غافل نہیں، تاہم لازم اور ضروری ہے کہ قدرتی آفات اور بھارت کی آبی جارحیت کے ساتھ ساتھ دوسرے تکنیکی پہلوئوں پر بھی غور کیا جائے۔ دفاع کے نقطہء نظر سے تو گوداموں اور سٹوریجز کے مقام اور حفاظت کے پہلوئوں پر غور لازم ہے تو نقل و حرکت کے لئے بھی حکمت عملی کے مختلف پہلوئوں کی بھی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے کرنل غلام جیلانی خان آج اس پہلو پر بھی غور کررہے ہوں گے۔برادرم بریگیڈیر صولت رضا نے بھی تکنیکی امور پر غور کی دعوت دی ہے۔
قارئین! بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے تاہم اکثر باتیں دہرائی جائیں گی۔ اس لئے آج اس یقین اور دعا کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ اللہ ہمارے حکمرانو! کو ہمت اور توفیق عطا فرمائے گا اور وہ پہلی فرصت میں دریائوں کی رکاوٹیں کسی مصلحت کے بغیر ہٹا دیں گے، یوں بھی ہمارے موسمیاتی وزیرمصدق ملک نے بات بہت صاف کردی ہے۔ حقائق بھی ایسے ہی ہیں اور زیادہ نقصان ہمیشہ کی طرح نچلے طبقے کا ہوا، اس کا پور اازالہ شاید ممکن نہ ہو، تاہم حکومت کا فرض تو مکمل بحالی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں