دفاعی معاہدہ، بعد از حالات و مضمرات؟

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر اپنوں اور پرایوں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ نہ صرف دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی جہت ملی بلکہ دونوں ممالک کے بزرگوں اور سابق راہنماؤں کی روحیں بھی مطمئن ہوئی ہوں گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تب سے ہیں، جب سعودی عرب سے ابھی تیل بھی نہیں نکلا تھا، سعودی عرب کو سب سے بڑا اعزاز حرمین شریفین کی خدمت ہے، دنیا بھر سے حجاج کرام یہاں آتے اور حرمین، شریفین مسلمانوں کی عقیدت کے مراکز ہیں، حالیہ معاہدہ کے بہت سے فوائد گنائے جا رہے ہیں، انہی میں ایک یہ بھی ہے کہ اب پاکستان کو بھی حفاظت میں ذمہ دار بنا دیا گیا اور یہ بہت بڑی سعادت ہے، اس معاہدہ پر اب تک مثبت ردعمل ہی سامنے آیا ہے اور جل کر کوئلہ ہو جانے والوں نے ابھی تک دم دبا رکھا ہے اور کوئی بات نہیں کی۔

میں آج جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میری آنکھوں کے سامنے 1974ء کی فلم چل رہی ہے،جب عالم اسلام کے تمام راہنما لاہور آئے اور پنجاب اسمبلی کو چوتھی اسلامی کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا، یہ کانفرنس بڑی تاریخ ساز تھی کہ اس میں شاہ فیصل،معمر قذافی، جمال عبدالناصر، یاسر عرفات اور دیگر اہم ترین سربراہان شریک ہوئے اور اسلامی دنیا کے اتحاد اور مل کر چلنے کا بھی فیصلہ ہوا، کانفرنس میں شریک ہونے والے سربراہان بڑے قد آور تھے اور اسلامی کانفرنس انہی کا لگایا پودا ہے جو آج بھی شجرسایہ دار بنا ہوا ہے، تاہم اسلامی امہ کو یہ دکھ ہے کہ 1974ء کے عہد و پیماں پورے نہ ہوئے اور جو خواب ان بڑوں نے دیکھا وہ پورا نہ ہو سکا اور اس دور کے سربراہ باری باری بوجوہ دنیا سے عالم بالا کو سدھار گئے۔ اگر کوئی فرق رہا تو اس میں پاکستان اور سعودی عرب کا وجود اور حالیہ قیادت تک آمد ہے جبکہ ایک خواب عملی شکل بھی اختیار کر گیا اور آج پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس کا دفاع بھی مضبوط ہاتھوں میں اور مضبوط ہے جس کا مظاہرہ گزرے ماہ مئی میں ہو چکا، جب دشمن کے نہ صرف ارادے خاک میں ملے بلکہ پاک فوج کی برتری بھی ثابت ہوئی کہ بڑے دشمن کو جذبہ حریت کے ساتھ تکنیکی مہارت سے مات دی گئی۔

اب دنیا میں پاک، سعودی عرب دفاعی معاہدہ زیر بحث ہے، جس کے مطابق یہ عہد کیا گیا کہ ایک دوسرے کے ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے ساتھ متصور ہوگی اور دونوں مل کر ہی دفاع کریں گے، خواب اگرچہ بہت بڑا تھا لیکن اس کی تعبیر ممکن نہ ہوئی، تاہم اسلامی کانفرنس کسی نہ کسی طرح قائم رہی اور ہے، اگرچہ عام مسلمان اس وقت مایوس ہوتاہے جب کسی جارحیت کے خلاف اجلاس ہو تو صرف مذمتی قرارداد پر انحصار کیا جاتا ہے، تاہم قطر پر اسرائیلی حملے اور امریکہ کی ڈپلومیسی نے اب عرب دنیا کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں کہ قطر، بہت بڑی امریکی بیس ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے علم اور اطلاع کے بغیر ایسا حملہ کیا جائے جس میں مخصوص دفتر اور رہائش گاہ نشانہ ہو اور حماس کے تعلق رکھنے والے مصالحتی وفد کے بعض اراکین شہید ہو جائیں، چنانچہ اس کا ردعمل بھی ہوا اور قطر کی طرف سے جوابی کارروائی کے حق کا ذکر کیا گیا، یہ حق تاحال جوابی وار کی شکل میں تو استعمال نہیں ہوا، البتہ قطر نے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت سے رجوع کرلیا ہے، یہ فورم ایسے ہیں کہ جہاں سے تاحال غزہ کے مظلوم ترین فلسطینیوں کو کوئی ریلیف نہیں مل سکی اور نہ ہی امریکہ کے ہوتے ہوئے کوئی امید ہے، حال میں دوحہ میں ہونے والی کانفرنس میں بھی سابقہ رویہ اختیار کیا گیا اور کسی اہم عملی اقدام کا فیصلہ نہ ہوا اگرچہ پاکستان کی طرف سے ٹھوس تجاویز بھی پیش کی گئیں، امہ اتحاد کی تجویز بھی ان میں شامل تھی۔

اس کے بعد اب پاک سعودی دفاعی معاہدے نے دنیا بھر کو چونکا دیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جلد ہی اس کے خلاف مخصوص لابیوں کی مخالفت شروع ہو جائے گی، تاہم اب یہ عمل یقینی طور پر آگے بڑھے گا اور امکان ہے کہ جلد ہی قطر اور متحدہ امارات بھی اس معاہدہ کا حصہ ہوں گے جبکہ مزید ملک بھی اس کا حصہ بن جائیں گے،جب چوتھی اسلامی کانفرنس میں ملت اسلامیہ کے اتحاد کا فیصلہ ہوا تو دنیا یونی پولر نہیں تھی، تاہم تب بھی امریکی لابی مضبوط جانی جاتی تھی، اب تو یونی پولر ورلڈ ہے، تاہم فرق اتنا ہے کہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ امریکہ لابی کا حصہ جانے جاتے ہیں اگرچہ قطرپر حملے کے حوالے سے امریکی رویہ یہ ہے کہ اب اسرائیلی حملہ نہیں کرے گا کہ اب صبر کرلو، تاہم اسی حوالے سے عرب دنیا میں بھی سوچ پیدا ہوئی ہے اور اتحاد کے حوالے سے زیادہ مثبت ماحول بنا ہے۔

میں دیگر تجزیہ کار حضرات سے ذرا مختلف سوچ رکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا میں سات ممالک ڈیکلرڈ ایٹمی صلاحیت والے ہیں جبکہ شمالی کوریا مختلف مثالوں سے ظاہر کرکے بھی اقرار نہیں کرتا اور اسرائیل کی بھی یہی پوزیشن ہے۔ یوں اب امریکہ واحد ایٹمی قوت نہیں ہے، چنانچہ اب سب کو سوچ سمجھ کر اقدامات کرنا ہوں گے، اگرچہ امریکہ، اسرائیل کی حمائت میں بہت آگے جا چکا ہے اور محترم ٹرمپ تو ہر بار حماس ہی کو دھمکی لگاتے اور مسلسل غزہ خالی کرانے کی حمایت کرتے ہیں۔ قطر میں مصر اور قطر کے علاوہ امریکی حمائت سے جو مذاکرات اب تک ہوئے ان میں جنگ بندی کا حتمی معاہدہ بھی اسی لئے نہیں ہو سکاکہ نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ بھی یہ شرط عائد کرکے منوانا چاہتا ہے کہ حماس نہ صرف یرغمالی غیر مشروط طور پر رہا کرے بلکہ ہتھیار ڈال کر غیرمسلح ہو جائے اس پر بھی اسرائیل فلسطین اتھارٹی کو نہیں مانتا اور اس کی یہ بھی شرط ہے کہ غزہ کا انتظام اسرائیلی شمولیت کے ساتھ غیر جانبدار انتظامیہ سنبھالے اس حوالے سے تجویز تھی کہ قطر، امارات اور مصر مشترکہ طور پر کنٹرول سنبھالیں، یہ ایسی شرائط اور باتیں ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے خبرو ں میں آتی رہی ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اسرائیل توسیع پسندی سے باز نہیں آتا اور نسل کشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔اس حوالے سے مسٹر امیدوار نوبل پرائز ڈونلڈ ٹرمپ فرماتے ہیں کہ عرب ممالک کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا اور دوستانہ ماحول بنانا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے جو ایک ناجائز اور جارح ریاست ہے اگرچہ امارات، اردن سمیت بعض ممالک معہ ترکیہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم غزہ پر ہونے والا ظلم مسلسل برداشت سے باہر ہے اسکے باوجود ابھی تک معاشی اور سفارتی بائیکاٹ کی نوبت نہیں آئی۔

کس قدر دکھ کی بات ہے کہ دنیا بھر میں عوام غزہ کے فلسطینیوں کی نسل کشی پر بلبلا رہے ہیں، ابھی حال ہی میں لندن میں کنسرٹ سے 30ملین ڈالر جمع ہوئے ہیں، دنیا کا کون سا ملک ہے جس کے عوام نے احتجاج نہیں کیا، اس کا تقابل بھی کرنا ضروری ہے،عوامی سطح پر تو یہ ثابت ہو چکا کہ دنیا بھر کے عوام بلا لحاظ مذہب و ملت غزہ کے مظلومین کے ساتھ ہیں۔ سوال پھر اسلامی دنیا سے ہے۔

بہرحال زیر موضوع پاک سعودی تعلقات اور معاہدہ ہے اس حوالے سے مثبت اور منفی باتیں شروع ہیں، میں اب پھر اپنی کہی بات دہراتا ہوں کہ پاکستان ایک بہت سخت تنے ہوئے رسے پر چل رہا ہے، اس لئے بہت زیادہ مہارت اور عقل مندی کے ساتھ ساتھ تزویراتی حالات، حکمت عملی اور معاشیات کو دیکھ کر قدم بڑھانا ہوں گے، ویسے 20ستمبر کو ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بھی بہت کچھ واضح ہوگا کہ اور کتنے ممالک اپنے اپنے اعلان کے مطابق فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں