دو سال میں پاکستان ہاکی ٹیم کے دوروں کی تحقیقات کی جائیں:شہلا رضا کا مطالبہ

کراچی (نمائندہ خصوصی) ممبر قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ شہلا رضا نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کے جتنے بھی غیر ملکی دورے ہوئے ان کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

کراچی میں اولمپیئن سمیع اللّٰہ، حنیف خان، کلیم اللّٰہ، وسیم فیروز، ناصر علی، ایاز محمود اور دیگر سابق اولمپیئنز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہلا رضا نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہاکی میں بے انتظامی کا نوٹس لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو سال سے آواز اٹھا رہی تھیں کہ فیڈریشن میں موجود افراد بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی صرف دورہ آسٹریلیا تک محدود نہیں بلکہ مختلف مواقع پر فنڈز کی کمی کا جواز بنا کر کھلاڑیوں کے مسائل کی آڑ میں فائدے اٹھائے گئے۔ ان کا الزام تھا کہ رانا مجاہد، آصف باجوہ اور شہباز احمد مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں جبکہ طارق بگٹی نے انتظامی بے قاعدگیوں کے ریکارڈ قائم کیے۔

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ اذلان شاہ ہاکی کپ کے دوران صدر اور سیکریٹری کھلاڑیوں کے کمروں میں مقیم رہے، ہاکی کے معاملات میں بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف ہاکی ہی نہیں بلکہ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے معاملات کا بھی جائزہ لینا چاہیے، جہاں سیکریٹری طویل عرصے سے عہدے پر براجمان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں واضح کیا گیا ہے کہ پرو لیگ کے معاملات پاکستان اسپورٹس بورڈ دیکھے گا، تاہم سوال یہ ہے کہ جب بورڈ نے ذمہ داری سنبھال لی تو پھر کروڑوں روپے کا چیک کیوں جاری کیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں بچنے نہ دیا جائے۔

شہلا رضا نے کہا کہ وہ کسی عہدے کی خواہش مند نہیں بلکہ ہاکی کے شفاف اور منظم نظام کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔