دو عزیز ہستیوں، ملک جاوید ہیرا اور میاں اظہر کی یادیں!

آج کل موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ساون کا خوشگوار مہینہ زحمت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔شمال کے پہاڑوں سے لیکر کراچی کے ساحلوں تک برساتی اور دریائی سیلاب کا زور ہے،اس سے جو جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے اس سے دِل دہل جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ظاہر ہو رہے ہیں، ان کے باعث بحث کا بھی نیا دروازہ کھل گیا ہے۔اسی دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلوں نے سیلاب کی شہ سرخیوں کی جگہ لے لی اور اس پر مخالف اور موافق باتیں ہونے لگی ہیں۔یوں ایک سے زیادہ موضوع سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ ایسے سانحات کی اطلاعات موصول بھی ہو رہی ہیں اور ان پر صائب آراء بھی آ رہی ہیں۔یوں آج لکھنا تو انہی میں سے کسی موضوع پر چاہئے لیکن دِل اتنا اداس اور دُکھی ہونے کیساتھ ساتھ ذاتی صدمے سے بھی دوچار ہو گیا۔ابھی ایک اچھے دوست ملک جاوید شہباز ہیرا کی دنیا سے رخصتی ہی کا زخم تازہ تھا کہ گذشتہ روز ایک اور عزیز میاں محمد اظہر بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان ہر دو حضرات سے تعلقات کی نوعیت الگ الگ تو ہے لیکن صفات کے حوالے سے دونوں یاد رکھنے اور رہنے والے حضرات ہیں،جن کی اپنی اپنی زندگی ہنگاموں سے بھی متصف ہے۔ ہر دو کا سیاسی تعلق الگ الگ جماعتوں سے تھا لیکن بعض صفات مشترک بھی تھیں اور ایک بڑی خوبی تعلق اور دوستی نبھانے کی بھی ہے۔ یہ اتفاق اور مجبوری ہے کہ ہر دو سے بہتر اور بے تکلفانہ تعلق ہونے کے باوجود عرصہ سے ملاقات نہ ہو سکی تھی، ملک جاوید شہباز ہیرا سے فیس بُک اور وٹس ایپ سے تعلق جڑا ہوا تھا لیکن میاں محمد اظہر سے یہ بھی نہیں رہا تھا کہ آخری وقت میں ان کی علالت اور میری تبدیل شدہ مصروفیات حائل رہیں۔

ملک جاوید شہباز ہیرا تاجر تھے اور پان کی درآمد کے کاروبار سے مسلک رہے اس حوالے سے انہوں نے کینٹ میں مکان کرائے پر لے رکھا تھا اور یہ گھر ان کے فیاضانہ تعلقات کی وجہ سے جماعتی سیاست کا محور بھی رہا، ملک جاوید شہباز ہیرا مہمان نوازی سے بہت لطف اندوز ہوتے اور یوں ان کا یہ سلسلہ اتنا مقبول تھا کہ پیپلزپارٹی کے بڑے بڑے مرکزی لیڈر انکی رہائش پر آ کر میڈیا سے بات کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب راؤ سکندر حیات پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر تھے تو ان دونوں کے درمیان گہری چھنتی تھی، جاوید شہباز ان کے زبردست حامی تھے اور اس سلسلے میں سرگرم بھی رہتے،پھر میں نے دیکھا کہ جب راؤ سکندر نے پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنا کر حکومت میں شمولیت اختیار کر لی تو ملک جاوید دہری کیفیت میں مبتلا ہو گئے تھے، ایک خاص وقت تک وہ بھی راؤ سکندر کی اس بات پر اعتماد کرتے رہے کہ انہوں (راؤ سکندر) نے یہ سب محترمہ کی خاطر کیا ہے۔ راؤ سکندر سینئر اور وزیر دفاع کی حیثیت سے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہوں نے یہ عمل محترمہ شہید کی واپسی کیلئے اٹھایا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اہم اور باخبر رہنما صدمہ میں تھے اور محترمہ نے بھی اس عمل کو اچھا نہیں جانا تھا،اگرچہ حقیقی اظہار میں وقت لگا تب تک حضرات گو مگو کا شکار تھے، وقت نے ثابت بھی کیا اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو دوری اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسے میں مرحوم جاوید شہباز ہیرا دہری کشمکش میں مبتلا ہو گئے تھے، راؤ سکندر سے مراسم اور جماعتی نظم و ضبط ان کیلئے پریشانی کا باعث بن گیا تھا،اس حوالے سے وہ میرے ساتھ کئی نشستوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے اور بالآخر ان کی یہ مشکل خود سینئر وزیر راؤ سکندر نے آسان کر دی کہ قریب میں رہائش ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ملک جاوید کی طرف آنا چھوڑ دیا یوں انہوں نے (ہیرا) نے بھی دِل پر پتھر رکھ ہی لیا۔

کاروبار میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، اسی حوالے سے ملک جاوید نے اپنی رہائش آبائی محلے کے ذاتی مکان میں منتقل کر لی اور پھر اس گھر کی تزئین و آرائش کے بعد اسے ”بے نظیر ہاؤس“ قرار دے دیا،اس ساری تگ و دو میں انہوں نے بھرپور کوشش سے محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کو مدعو کیا اور ان کے ہاتھوں ہی ”بے نظیر ہاؤس“ کا افتتاح کرایا، اب تک محترمہ کی ایک بڑی تصویر وہاں آویزاں ہے۔ملک جاوید شہباز ہیرا کا آخری وقت اسی گھر میں گذرا کہ ان کی طبیعت ناساز ہونے کے علاوہ وزن بڑھ جانے کی شکایت ہونے کے باعث آخری دو چار برس انہوں نے گھر پر گذارے، مہمان نوازی اور سوشل میڈیا سے دِل لگایا ان کی وفات سے صدمہ ہوا اور دِل سے مغفرت کیلئے دُعا نکلتی ہے۔مرحوم حقیقتاً لاولد تھے، لیکن انہوں نے اپنے بھائی کی اولاد کو ایڈاپٹ کیا تھا، پہلی بیٹی جسے وہ ”پری“ کہہ کر بلاتے تھے اور دوسرا بیٹا جو اب پان والے کاروبار میں بھی جانشین ہے،ملک مجاہد شہباز ہی نے تجہیز و تکفین کا حق ادا کیا۔ مرحوم کے سب بھائی پیپلزپارٹی میں ہیں اور ایک بھائی پیپلزپارٹی ضلع شیخوپورہ کے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔

جہاں تک میاں محمد اظہر کا تعلق ہے تو وہ بھی بھرپور زندگی گذار کر گئے۔ان سے بھی تعلقات جرنلسٹ اور لیڈر کی حیثیت سے ہوئے لیکن مرحوم کے مزاج کے باعث بے تکلفی میں بھی ڈھل گئے تھے۔ان سے سابقہ ضیاء دور میں میئر لاہور کے دوسرے انتخاب کے موقع پر ہوا، میاں شجاع الرحمن (مرحوم) 1979ء کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں میئر منتخب ہوئے۔میرا ان کیساتھ تعلق ان کے والد میاں عبدالقادر کے حوالے سے تھا جو جمعیت علماء پاکستان کے سرپرست تھے اور جمعیت کے بانی صدر علامہ ابو الحسنات کی رہائش پر آیا کرتے تھے۔ میرا جرنلزم سے پہلے کا کچھ عرصہ جمعیت کے پی آر او کے طور پر گذرا۔علامہ ابو الحسنات سے عقیدت تو میاں عبدالقادر سے رشتہ مضبوط تھا، چنانچہ 1979ء کے میئر الیکشن میں بھی ہم نے میاں شجاع الرحمن کا ساتھ دیا اور پھر بیٹ رپورٹر کی حیثیت سے بھی یہ تعلق اور گہرا ہوا تو جب میئر کے عہدے کی پہلی مدت پوری ہونے اور دوسری بار انتخاب کا وقت آیا تو میاں صاحب پھر سے امیدوار تھے اور ہم ان کے حمایتی، لیکن شاید قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ بوجوہ شریف حضرات کے تحفظات ہوئے اور انہوں نے درپردہ انکی حمایت سے ہاتھ اُٹھا لیا اور حکمت عملی کے تحت آرائیں برادری سے میاں اظہر کو سامنے لایا گیا۔ بات طویل ہے قصہ مختصر میاں اظہر میئر بن گئے اور ہم رپورٹروں کے گروپ کا افطار کا سلسلہ جو میاں شجاع الرحمن کے دور سے شروع ہوا میاں اظہر کے دور میں بھی جاری رہا اور تعلقات بھی بہتر سے بہتر ہو گئے۔میاں اظہر بہت بے تکلف اور پُرمزاح شخصیت تھے۔ آواری سے پرل کانٹی نینٹل تک ان کی محافل مشہور ہیں۔سادہ طبیعت کے تھے، میری آخری ملاقات برادرم میاں حبیب کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر ہوئی جب بارات میاں سعید ڈیرہ والے کی فیکٹری آنا تھی، ہم سب کھڑے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے میاں اظہر آئے تو ان سے پرانی بے تکلفی سے معانقہ ہوا،میرے منہ پر ماسک تھا انہوں نے وہ نوچ کر ہٹا دیا اور بولے! یہ تو ہٹاؤ تاکہ شناخت تو ہو،پھر دوسرا معانقہ اور دلچسپ فقرے بازی، اسکے بعد بوجوہ ان سے ملاقات نہ ہوئی تاہم ان کا گورنر شپ والا دور بھی معاون رہا کہ رپورٹنگ کے حوالے سے ملاقات ہو جاتی تھی،اللہ سے ہر دو مرحومین کیلئے مغفرت کی دِلی دُعا ہے۔

(یادیں بہت ہیں، کالم کی گنجائش کم،پہلے ہی کچھ زیادہ ہو گیا)

اپنا تبصرہ لکھیں