پشاور (نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا الزام کسی ایک جماعت یا کسی ایک فیصلے پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ اگر خیبرپختونخوا میں ناجائز طریقے سے حکومت بنائی گئی تو اسے چلنے نہیں دیا جائے گا۔ پارٹی نے شہداء، ریاست اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے صوبے میں گورننس کے تحفظ اور استحکام کی خواہش کا اعادہ کیا۔
پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، صوبائی صدر جنید اکبر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مشترکہ طور پر کہا کہ تحریک انصاف قوم کے شہداء، ریاست اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے اور صوبے میں ترقی اور استحکام چاہتی ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئینی تبدیلی کو غیرآئینی طریقے سے روکا جا رہا ہے اور پارٹی کو دباؤ میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا الزام کسی ایک جماعت یا ایک فیصلے پر ڈالنا درست نہیں، اور عوام کو بتایا جائے کہ کس دہشت گرد کو ملک میں بسانے کی بات کی جا رہی ہے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی کی سطح کم سے کم تھی اور ساڑھے تین سال قبل افغانستان کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے پارٹی اور قائدین پر غداری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی خیرخواہ جماعت ہے اور صوبے میں گورننس کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے گی۔
سابق اسپیکر اسد قیصر نے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفر یدی کو وزارتِ اعلیٰ کا مناسب حقدار قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر ناجائز طریقے سے حکومت بنائی گئی تو پی ٹی آئی اسے قبول نہیں کرے گی اور اسے چلنے نہیں دے گی۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا کہ تحریک انصاف صوبے میں اپنی منتخب حکومت کا بھرپور دفاع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کا مینڈیٹ پی ٹی آئی کے پاس ہے اور تبدیلی لانا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنے ووٹوں کے تحفظ کے لیے مکمل اقدامات کرے گی اور اگر کسی نے پارٹی کے ووٹ توڑے تو پارٹی سخت ردعمل دے گی۔
کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ملٹری آپریشنز کے فیصلوں میں سب کو اعتماد میں لیا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے راستے بھی تلاش کیے جائیں۔
نظریاتی اور سیاسی پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ گذشتہ روز آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، جس سے گورننس اور عوامی فلاح متاثر ہوئی ہے، جبکہ وفاقی عہدیداروں کی جانب سے بھی مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے زور دیا کہ ملک کے جملہ ادارے اور سیاسی جماعتیں مل کر استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ پارٹی نے کہا کہ وہ آئینی، قانونی اور سیاسی وسائل استعمال کر کے صوبے میں اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کرے گی اور ناجائز طریقے سے بنائی جانے والی کسی بھی حکومت کو قبول نہ کرے گی۔

