کچھی بولان میں پنیر ریلوے سٹیشن کے قریب دہشت گردوں کا کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے بعد مسافروں کو یرغمال بنانے کا سانحہ معمولی نہیں، دہشت گردوں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے ہماری سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے اور یرغمالیوں کو رہا کرانے میں کئی گھنٹے لگے، سکیورٹی فورسز اور سرکاری ذرائع کے مطابق 33 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، 29 شہادتیں ہوئیں، ان میں اٹھارہ جوان بھی شامل ہیں، یہ اعداد و شمار درست ہوں گے مگر ہمیں دکھ ہے جو منظر نامہ عالمی میڈیا یا دشمن قوتیں پیش کر رہی ہیں وہ اگر غلط ہے ان کے اس زہر آلود پراپیگنڈے کا کوئی منہ توڑ اور مؤثر جواب حکومت کی طرف سے کیوں نہیں دیا جا رہا؟ یہ بھی ایک المیہ ہے ہمارے سچ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جبکہ ہمارے دشمنوں کا جھوٹ بھی بکتا ہے، پورا سچ ہم بولتے بھی نہیں ہیں، البتہ پورا جھوٹ بولنے کے ہم ماہر ہیں، یہی وجہ ہے ہماری مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دہشت گردی پاکستان سے ہمیشہ کے لیے شاید رخصت بھی اسی لیے نہیں ہو رہی، ہماری دعا ہے پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے مستقل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے تمام ادارے اب آئینی حدود میں آ جائیں، خصوصاً سیاہ ست دان اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کے لیے اب کچھ سوچ لیں، اپنے لیے سوچتے ہوئے تو ان کی عمریں بیت گئیں، ابھی کل ہی صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلند و بانگ دعویٰ کیا تھا ہم دہشت گردوں کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے، اس سے اگلے ہی روز دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے واضح طور پر جواب دیا انہیں سر اٹھانے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے، ویسے اجازت بھی انہیں مل سکتی ہے کیونکہ جس طرح کے بزدل، نکمے، نااہل اور کرپٹ لوگ اہم عہدوں پر براجمان ہیں ان میں بھلا یہ جرأت کیسے ہو سکتی ہے کہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیوں کے لیے ان سے اجازت مانگیں اور وہ اس سے صاف انکار کر دیں؟ یہ صرف ایک معجزے کی صورت میں ہی ممکن ہے، مگر پاکستان میں اب معجزے نہیں سانحے ہوتے ہیں، سب سے بڑا سانحہ تو یہ ہے ہمارا کوئی ادارہ اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکا، یہی وجہ ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں بائیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں اور مزید کئی لاکھ پاکستانی ملک چھوڑنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، ہم شاید دہشت گردی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں، ہماری نا اہلیاں اور بونگیاں اسی طرح جاری رہیں تو ممکن ہے اگلے کچھ عرصے میں ہم پہلے نمبر پر آ جائیں اور اس بات پر بھی اترائیں کہ چلیں ہم دنیا میں کسی معاملے میں تو پہلے نمبر پر آئے، دنیا میں جہاں بھی اس نوعیت یا شدت کی دہشت گردی ہوتی ہے اس سے سبق سیکھا جاتا ہے، اس کے بعد ارباب اختیار سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، وہ اپنی ان خامیوں کوتاہیوں اور نااہلیوں کا جائزہ لیتے ہیں جو دہشت گردی کی وجہ ہوتی ہیں، ان خامیوں کی روشنی میں جدید تقاضوں کے مطابق نئی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے، ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے، بڑی مشکل سے دہشت گردوں کو جہنم رسید کر کے اس کے فوراً بعد ہم اس کی شاباش کے لیے کوششیں شروع کر دیتے ہیں، ایک بیانیہ بنانے میں لگ جاتے ہیں کہ ہم صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں دہشت گردی کنٹرول کرنے کے ماہر ہیں، چند دہشت گردوں کو ہلاک کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کر دیتے ہیں اور اس کے بعد اس یقین کے ساتھ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جاتے ہیں کہ ملک میں اب کوئی دہشت گرد باقی ہی نہیں بچا، میں سمجھتا ہوں عقل کے اس اندھے پن سے اب مستقل اور مکمل طور پر نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جعفر ایکسپریس پر حالیہ حملے کے بعد ہمارے حکمرانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا، اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا ہو گا، نااہل اور مشکوک لوگوں سے اپنی جان ہمیشہ کے لیے چھڑانا ہو گی، سکیورٹی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو صرف مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے ضائع کرنے کے بجائے اس کا درست استعمال کر کے دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اسے ختم کرنا ہو گا، ذاتی مفادات کی جنگ میں ملکی مفادات کا سرعام قتل عام اب بند ہونا چاہیے، جھوٹ، منافقت، ظلم، زیادتی، انتقام، کرپشن اور اس نوعیت کی کچھ سرکاری دہشت گردیوں سے بھی اب نجات حاصل کرنا ہو گی، ہمارے کچھ کارنامے ایسے ہیں ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں، خود کو تباہ کرنے کے لیے ہم خود ہی کافی ہیں، ہمارے سیاسی و اصلی حکمران اکثر یہ فرماتے ہیں ہم کسی دشمن ملک کو اپنی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے، دوسری طرف ہماری اپنی آنکھیں اتنی میلی ہیں ہمیں کسی دشمن کی میلی آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، آپس کے اختلافات ہم نے ختم نہ کیے، صوبوں خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے کی محرومیاں کم نہ کیں، انہیں ان کے حقوق نہ دئیے، فوری طور پر قومی یک جہتی کی فضا قائم نہ کی ایسی صورت میں دہشت گردیاں مزید بڑھتی جائیں گی، اور اس کے نتیجے میں جن نقصانات کا اندیشہ ہے میرا تو وہ سوچ کے ہی دل بند ہونے لگتا ہے، پاکستان کا ایک ایک انچ ہمیں عزیز ہونا چاہیے، اور صرف زبانی کلامی نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ قیام پاکستان سے لے کے اب تک ہوتا چلا آ رہا ہے، اس کا ناقابل تلافی نقصان سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں ہم اٹھا چکے ہیں، پاکستان مزید ایسے کسی سانحے کا متحمل اب نہیں ہو سکتا جبکہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے اندرون و بیرون ملک بیٹھے کچھ آلہ کار ایسی فضا ایسا ماحول بنا رہے ہیں ایسی آگ لگا رہے ہیں ان کے آگے فوری طور پر کوئی مضبوط دیوار کھڑی نہ کی گئی، ان کے زہر آلود پراپیگنڈوں کا کوئی منہ توڑ اور مؤثر جواب نہ دیا گیا وہ اسی طرح اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوتے رہیں گے، یہ مان لینا چاہیے ہماری کچھ سکیورٹی ایجنسیوں سے کوئی نہ کوئی ایسی کوتاہی ضرور ہوئی ہے جس کے نتیجے میں یہ سانحہ رونما ہوا، ساری ذمہ داری دشمنوں پر ڈال دینے کا عمل مناسب نہیں، اس پہلو پر تھوڑا بہت ہی سہی اب غور ضرور فرما لینا چاہیے وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے پاکستان سے دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی؟ کہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی تو نہیں ہماری توجہ اور ہی طرح کے کاموں پر رہتی ہے؟؟؟

