دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے حکومت مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے:شہباز شریف

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)—وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور دنیا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی معترف ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت انسداد دہشتگردی اور ریاستی رٹ کے قیام سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”ریاست پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی، زمینی آپریشن، قانون سازی اور انتہاپسند سوچ کی حوصلہ شکنی کے اقدامات شامل ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ قوم، سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔ آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا اور دنیا نے ان تاریخی کامیابیوں کو تسلیم کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ”ہمارے بہادر سپوتوں نے قوم کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ قوم کو ان اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ پر فخر ہے۔”

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فتنہ ہندوستان اور فتنہ خوارج کے مکمل خاتمے کیلئے بھی بھرپور حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے تاکہ ملک میں دیرپا امن قائم ہو۔

اسمگلنگ کے خلاف کامیاب کارروائیاں: وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

معاشی استحکام: شہباز شریف نے بتایا کہ اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگ میں بہتری معاشی استحکام کا مظہر ہے۔

ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس نظام: وزیراعظم نے کہا کہ نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس اصلاحات کے انقلابی اقدامات کیے گئے۔غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی: انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

اسٹیئرنگ کمیٹی نے وفاقی و صوبائی سطح پر انسداد دہشتگردی کے اقدامات میں ہم آہنگی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک مضبوط، دہشتگردی سے پاک ریاستی ڈھانچہ ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں