’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کیلئےوینس میں 23 منٹ طویل تالیوں کی گونج

وینس، اٹلی(شوبزڈیسک)فلسطینی بچی ہند رجب کی آخری پکار پر مبنی دستاویزی فلم “The Voice of Hind Rajab” نے وینس فلم فیسٹیول میں بے مثال پذیرائی حاصل کی—دیکھنے والے 23 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیوں کی گونج گاتے رہے، یہ فیسٹیول کی تاریخ میں اس طرح کا سب سے طویل standing ovation ہے۔ شائقین جذباتی طور پر بھر آئے اور “آزاد فلسطین” کے نعروں سے محفل گونج اٹھی۔

فلم کو وینس میں پریمیئر کے دوران 23 منٹ سے زائد standing ovation ملا، جو فیسٹیول کے سب سے طویل خراجِ تحسین کا ریکارڈ ہے ۔تماشائیوں کی آنکھیں اشکبار تھیں اور ماحول “فری فلسطین” کے نعروں سے گونج رہا تھا ۔ہدایت کارہ کوثر بن ہانیہ نے اس فلم کو گولڈن لائن جیسا سیاسی اور وثوقی بیان قرار دیا—جس نے ظلم و نسلی‌کشی کی بیانیہ کا چیلنج کیا۔ ہند کی آواز کو غزہ کی آواز قرار دیا گیا ۔

فلم کی کہانی پانچ سالہ ہند رجب کے آخری لمحات پر مبنی ہے جنہیں اسرائیلی فوج نے جنوری 2024 میں بے دردی سے ہلاک کیا۔ فلم میں اصل فون کالز شامل ہیں اور اخلاقی سوالات اُٹھائے گئے کہ ایک بچی کو زندگی کی بھیک کیسے مانگنے پر مجبور کیا گیا؟ ۔

’’The Voice of Hind Rajab‘‘ نے وینسی فلم فیسٹیول میں نہ صرف تالیوں اور جذبات کی شدت سے ریکارڈ قائم کیا بلکہ انسانی درد، جنگلاتی انصاف اور سینما کی طاقت کو ایک گہرے انسانی اور بین الاقوامی بیان میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح، یہ فلم ایک ثقافتی اور سیاسی علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جو صرف فن نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں