روزنامہ ڈان لاہور میں شائع آصف چودھری کی خصوصی رپورٹ

آج کے ڈان میں چھپنے والی میری اس لیڈ سٹوری میں چھپنے والے پس پردہ حقائق کے بعد تو مریم نواز کو نئے IG Punjab کی تعیناتی کے بارے میں سوچنا ہو گا.

میں ذاتی طور پر IG ڈاکٹر عثمان انور کو پسند کرتا ہوں، بہت اچھے انسان ہیں، لیکن بطور پنجاب پولیس کمانڈر بری طرع ناکام ہو چکے ہیں، ان کو ڈھائی سال ملے، یہ کوئی معمولی عرصہ نہیں، انہوں نے 2028 میں ریٹائرڈ ہونا یے، آج بھی وقت ہے، پالیسی بدل لیں، جو پولیس افسران زمینوں، قیمتی پراپرٹیوں پر قبضے کرانے میں ملوث ہو چکے یا جو ناہل ہیں ان کو فوری طور پر fix کر کے ایک سبق دے دیں تو شائد کوئی راستہ نکل آئے .

ایک DPO جو ایمانداری میں مشہور تھا اور اس نے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی ایمانداری کی marketing کر رکھی تھی وہ land mafia کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے expose ہوتا دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی راہ گئیں پالیسی تبدیل نہ کی تو مزید چند ماہ گزارنا بھی مشکل ہو جائے گا .

وزیر اعلیٰ مریم نواز کو اتنا easy نا لیں، انہیں لمبے عرصہ تک آپ چکر نہیں دے سکیں گے۔ خبر کا جائزہ لے لیں، خواتین، بچیوں کی پنجاب بھر میں عزتیں لٹتی رہیں، درندے ان کو بھنبھوڑتے رہے، کچھ کی عزت کھیتوں میں تار تار کی گئی، کسی کو وڈیروں کے ڈیروں پر، حوا کی بیٹی نوکری کی مجبوری میں اور کوئی اغوا کر کے گن پوائنٹ پر rape کا نشانہ بنی .اعداد و شمار خوفناک ہیں پڑھ کر آپ کے رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے.

میری اس خبر کے مطابق صرف گزشتہ سال پنجاب بھر میں 60 ہزار سے زائد خواتین بچیوں کو درندوں نے اپنی گندی حوس کا نشانہ بنایا، حراساں اور بلیک میل کیا گیا.پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پنجاب پولیس کی کارکردگی دیکھیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے.سرکاری اعداد و شمار ثبوت کے طور پر دے رہا ہوں 60 ہزار میں سے صرف 924 کو سزائیں ملیں.

مطلب آپ کو اربوں روپے فنڈز دئیے، بنگلے، گاڑیاں، اسلحہ، طاقت، اختیارات، دو لکھ کی فورس، مرضی کے متعدد specialized units ، وسائل پر حکمرانی کا عالم کے ہر ضلع میں تھانوں کی بھرمار، پنجاب کا ایک ایک انچ آپ کے زیر اثر، اور calls trace کرنے کیلئےmodern gadgets, تربیت کیلئے training سکولز و کالجز
اور کارکردگی تباہی کے دہانے پر.ایک بات میں بڑے وثوق کے ساتھ بتا دوں، پنجاب پولیس کی قابلیت کو تولہ جائے تو کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے زیادہ ذہین، سمجھدار اور پروفیشنل ہیں .بدقسمتی سے ان کو اچھا رہنما نہیں ملا.

اصل میں پنجاب پولیس کے جوانوں کے وسائل خاص کر فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر ظلم و نا انصافی کی جا رہی ہے .ان سے قابلیت کے مطابق کام لینے کی بجائے ان کو جان بوجھ کر غلط راست پر ڈالا گیا ہے، انہیں سکھیا گیا ہے آپ نے محنت نہیں کرنی، صرف shortcut والا راستہ اپنائیں، تا کہ over the night رزلٹ لے کر حکمرانوں سے داد وصول کر سکیں .انہیں ڈاکوں کو پولیس مقابلوں میں مار کر کرائم کنٹرول کرنے پر لگا دیا گیا ہے .

اگر پنجاب پولیس کو تھانوں کی سطح پر وسائل اور ان کے دیگر حقوق پورے کیے جائیں تو یقین سے کہتا ہوں وہ ثبوتوں کے ساتھ جنسی درندوں کو عدالتی کٹہرے پر لا کر سزائیں دلا سکتے ہیں .لیکن یہاں الٹی گنگا بہا دی تفتیش ایک محنت طلب کام ہے بسا اوقات اس کیلئے سزائیں دلاتے کسی سال گزر جاتے ہیں .پھر تو کارکردگی کا چرچا کسیے ہو گا، آئی جی شپ تو دو ڈھائی سال تک رہتی ہے .دیگر افسران کو بھی اتنا ہی وقت ملتا ہے.

نتیجہ نکالا کے ڈاکوں چوروں کو پولیس مقابلوں کی نزر کر کے دنوں میں کرائم کنٹرول کریں، دھمال ڈالیں .اب خبر کی طرف آتے ہیں تو آپ نے صرف 900 rapists کو سزائیں دلوائی ہیں, تقریباً دو ہزار بری ہو گئے .باقی 30 ہزار سے زائد کا کیا کریں گے .تفتیش میں تو آپ بری طرع ناکام ہو گئے .آپ کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے جس میں آپ کی مہارت کے ڈنکے بچتے ہیں .کیا ان کو بھی مقابلوں میں چوکوں، چوراہوں پر بھون ڈالیں گے،؟
یا پھر اپنی نا اہلی کا اعتراف اور فورس کی قابلیت کو own کرتے ہوئے ان سے تفتیش میں وہ کام لیں جس کے لئیے ان کی ہر سال تربیت اور ٹرینگ کرتے ہیں ؟

اپنی خبر میں میں نے بڑی باریک بینی سے مکمل اعداد و شمار دئیے ہیں، کتنے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئیے، کون کون سے offences لگائے.شیڈول- I میں کتنے کیسز تھے .شیڈول-II میں الگ سے اعداد و شمار دئیے .جمع تفریق کر کے تجزیہ دیا.ہر شیڈول کی الگ تفصیل کہ کتنے ملزمان تھے، کتنے convicted کتنے بری ہوئے.ہر ضلع کی الگ سے مکمل کارکردگی کو پول کھولا ہے .ابھی مزید ایسی ہی دھانسو قسم کی خبریں آ رہی ہیں
فیصلہ آپ نے کرنا ہے.

(آصف چودھری کی وال سے)

اپنا تبصرہ لکھیں