روس کا یوکرین پربڑا فضائی حملہ، دفاتر میں آگ ، چار افراد ہلاک

کیف ( نمائندہ خصوصی،اے ایف پی) — روس نے اتوار کی صبح یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا، جس میں چار افراد ہلاک جبکہ دارالحکومت کیف میں سرکاری دفاتر آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اس حملے سے جنگ مزید طول پکڑے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، آگ کے شعلے کیف میں اس وسیع سرکاری کمپلیکس کی چھت سے بلند ہوتے دیکھے گئے جس میں وزرا کے دفاتر ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تین سالہ جنگ کے دوران اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق ڈرون حملوں سے کئی بلند عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق، روس نے ہفتہ رات سے اتوار صبح تک 810 ڈرونز اور 13 میزائل داغے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیف میں صرف ایک پلانٹ اور لاجسٹک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔وزیراعظم یولیا سویریدینکو نے ایک ویڈیو میں کہا کہ “ہم عمارتیں دوبارہ بنا لیں گے لیکن جانیں واپس نہیں لا سکتے۔ دشمن روزانہ ہمارے شہریوں کو دہشت زدہ کرتا ہے۔”

صدر زیلنسکی نے حملے کو “جان بوجھ کر کیا گیا جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفارت کاری کو سبوتاژ کرنے اور جنگ کو طول دینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے رابطہ کیا، جنہوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس “خود کو مزید گہری جنگ اور دہشت کی منطق میں دھکیل رہا ہے۔”

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ان حملوں کو “بزدلانہ” کہا جبکہ یورپی یونین کی سربراہ ارسولا فان ڈیر لیین نے کریملن پر “سفارت کاری کا مذاق اڑانے” کا الزام لگایا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے واشنگٹن ان ممالک پر محصولات عائد کرنے کیلئےتیار ہے جو روسی تیل خریدتے ہیں۔ ان کے مطابق، “روسی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی اور صدر پیوٹن مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوں گے۔”

“انسانی جانی و مالی نقصان”
کیف کے مغربی علاقے میں ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 24 سالہ حاملہ خاتون بھی شامل تھیں جنہوں نے قبل از وقت بچے کو جنم دیا۔مشرقی اور جنوب مشرقی یوکرین میں مزید دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایک گھڑ سواری کلب میں سات گھوڑے بھی مارے گئے۔

“عالمی ردعمل”
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب دو درجن سے زائد یورپی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کی نگرانی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی مغربی فوجی کی موجودگی ناقابل قبول ہوگی۔دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ماسکو پر نئی پابندیاں لگانے کیلئےتیار ہیں۔

روس اب یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ یہ یورپ کی خونریز ترین جنگ ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی تباہی قرار دی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں