روس کی یوکرینی گاؤں پر بمباری میں 23 افراد ہلاک، 18 زخمی

کیف(سی این این/اے ایف پی) — یوکرینی حکام کے مطابق مشرقی ڈونیٹسک علاقے کے دیہی گاؤں یارووا میں روسی فضائیہ کی بمباری سے کم از کم 23 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو “انتہائی ظالمانہ” اور “براہِ راست عام شہریوں پر حملہ” قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو ایسے اقدامات پر مناسب جواب دینا چاہیے۔

زیلنسکی کی جانب سے جاری ویڈیو میں جائے وقوعہ کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں عام کپڑوں میں ملبوس لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ حملہ اُس وقت کیا گیا جب گاؤں میں پنشن کی تقسیم جاری تھی۔ فوٹیج میں ڈاک سروس کی موبائل برانچ کی تباہ شدہ وین اور قریب بچوں کا کھیل کا میدان بھی دکھائی دیا۔

ڈونیٹسک کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے کہا کہ “یہ جنگ نہیں بلکہ سراسر دہشت گردی ہے، روسیوں نے اُس وقت حملہ کیا جب لوگ اپنی پنشن وصول کر رہے تھے۔”

یوکرینی ڈاک سروس کے سربراہ ایگور سمیلانسکی کے مطابق مقامی ڈاک برانچ کے سربراہ زخمی ہوئے ہیں، اور سروس مسلسل اپنی حکمت عملی بدل رہی ہے تاکہ فضائی حملوں سے بچا جا سکے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبہا نے کہا کہ ملک اپنے اتحادیوں سے سخت ردِعمل اور روس پر مزید پابندیوں کی توقع رکھتا ہے۔

یارووا گاؤں کی آبادی فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے سے قبل تقریباً 2800 افراد پر مشتمل تھی۔ جون 2022 میں یہ گاؤں روس کے قبضے میں چلا گیا تھا، تاہم بعد میں یوکرینی افواج نے دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔

یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ روز پورے ملک میں مزید سات افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے، جبکہ ڈونیٹسک کے ایک اور حملے میں چھ افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں