ریاست کسی فرد واحد کی خواہش پر قربان نہیں ہوسکتی:ڈی جی آئی ایس پی آر

پشاور (نمائندہ خصوصی) — پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جگہ دی گئی، جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور عوام کو کسی ایک شخص کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 سے اب تک صوبے بھر میں ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں سینکڑوں دہشتگرد مارے گئے اور متعدد گرفتار ہوئے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق سال 2024 کے بعد خیبرپختونخوا میں 14 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے جن کی اوسط روزانہ 40 کارروائیاں بنتی ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران 769 دہشتگرد ہلاک اور 577 اہلکار و شہری شہید ہوئے۔رواں سال 15 ستمبر تک 10,115 آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں 917 دہشتگرد ہلاک اور 516 سیکیورٹی اہلکار و شہری شہید ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ دہشتگردی کے برقرار رہنے کی بڑی وجوہات میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں تاخیر، سیاسی مداخلت، سرحد پار پناہ گاہیں، جدید ہتھیاروں کی دستیابی اور مقامی حمایت شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی آپریشنل قوت محض 3,200 اہلکاروں پر مشتمل ہے، جو مطلوبہ استعداد کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عدالتی نظام کی سست روی اور دہشتگردی کے مقدمات میں کمزور پیروی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی عدالتوں میں تاخیر سے فیصلے اور نرم سزائیں دہشتگردی کے مکمل خاتمے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ ریاست نے ان عناصر کیلئے تین راستے مقرر کیے ہیں: خود کو ریاست کے حوالے کریں، ریاست کے ساتھ تعاون کریں، یا کارروائی کا سامنا کریں۔

ترجمان کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کے پاس جدید اسلحہ اور بارودی مواد کے شواہد موجود ہیں جو ماضی میں اتحادی افواج کے چھوڑے گئے ذخائر سے حاصل کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج سرحدوں کی مکمل نگرانی کر رہی ہے اور کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور ریاست کو نیشنل ایکشن پلان پر یکجہتی سے عمل کرنا ہوگا تاکہ امن اور استحکام ہمیشہ کیلئےقائم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں