ریاستی تنخواہ = صحافتی آزادی کا خاتمہ

حالیہ برسوں میں صحافت ایک غیر معمولی زوال کا شکار ہوئی ہے، جسے غلط معلومات، کارپوریٹ اثر و رسوخ، ریاستی پروپیگنڈا، اور اخلاقی معیارات کی گرتی ہوئی حالت نے شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں، جہاں آزاد صحافی شدید معاشی مشکلات اور ریاستی جبر کا شکار ہیں—چاہے وہ اشتہارات کی بندش کے ذریعے ہو یا غیرقانونی ہتھکنڈوں سے—وہاں آزاد صحافت ایک سراب بن چکی ہے۔ اس صورتِ حال نے صحافت کے اعلیٰ اخلاقی معیارات پکھر چکے ہیں۔

تاہم اس زوال کے باوجود، ایک اصول اب بھی دنیا کی زیادہ تر جمہوری ریاستوں میں پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ قائم ہے: کوئی سرکاری ملازم آزاد صحافی نہیں کہلا سکتا۔ یہ محض ایک نظریاتی دعویٰ نہیں، بلکہ آئینی رہنمائی، صحافتی یونینوں کے ضابطوں، اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اخلاقی اصولوں پر مبنی ایک اصول ہے۔ تاہم سرکاری ایجنسیاں اس اصول کو خفیہ طریقے یا بعض اوقات کھلے طریقے سے پامال کرنے کے گھناؤنے کھیل کھیلتی رہتی ہیں تاکہ عوام کے ذہنوں پر سرکاری بیانیے کو مسلّط کیا جا سکے۔

پاکستان کے تناظر میں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اس اصول کی ایک مضبوط قانونی مثال فراہم کرتی ہے۔ یہ یونین جو کہ “ورکنگ جرنلسٹس” کی نمائندہ ہے، اپنی رکنیت کے لیے سخت معیار طے کرتی ہے: صرف وہ افراد جو بنیادی طور پر ایڈیٹوریل صحافت میں مصروف ہیں—نیوز رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ، ایڈیٹوریل رپورٹنگ، فوٹو جرنلزم اور تحریری یا ویژیؤل تجزیہ—اور جو اخبارات، ٹی وی، یا ڈیجیٹل میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، وہی اہل تصور کیے جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمین، بشمول پبلک انفارمیشن آفیسرز، سول سرونٹس، یا سرکاری میڈیا کے غیرادارتی عملے کو واضح طور پر خارج کیا گیا ہے۔

اس کی وجہ بالکل واضح ہے: ان کی تنخواہیں، ملازمت کا تحفظ، اور رپورٹنگ کی لائنز براہِ راست ریاست سے جڑی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ادارتی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ ایک ایسا شخص جو ریاست کے ساتھ ملازم ہو، وہ اسی ریاست پر نگران ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا—جبکہ آزاد صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے۔

یہ معیار صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ مغربی جمہوریتوں میں بھی صحافتی تنظیمیں اور پیشہ ورانہ ادارے اسی قسم کی پابندیاں عائد کرتے ہیں، اگرچہ بعض اوقات انہیں اخلاقی زبان میں بیان کیا جاتا ہے نہ کہ آئینی۔ مثال کے طور پر، برطانیہ میں نیشنل یونین آف جرنلسٹس (NUJ) اپنی مکمل رکنیت صرف ان ایڈیٹوریل ماہرین تک محدود رکھتی ہے جو سرکاری اطلاعاتی عہدوں پر فائز نہیں ہوتے۔ سول سرونٹس، پبلک ریلیشنز افسران یا کوئی بھی شخص جو ریاست سے تنخواہ لیتا ہو، انہیں محض ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ دیا جا سکتا ہے، لیکن وہ یونین کے مرکزی کاموں جیسے انتخابات یا اجتماعی سودے بازی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

امریکہ میں بھی، سوسائٹی آف پروفیشنل جرنلسٹس (SPJ) اور دیگر پریس کلب سرکاری ملازمین پر قانونی پابندی نہیں لگاتے، مگر ان کے اخلاقی ضابطے ایسے کردار کی سخت حوصلہ شکنی کرتے ہیں جہاں ریاست سے تنخواہ لینے والے کے آزاد صحافت کے بنیادی اصولوں سے مفادات کا ٹکراؤ (conflict of interests) بنتا ہو۔ سوسائٹی آف پروفیشنل جرنلسٹس (SPJ) کے اخلاقی ضابطے میں واضح کیا گیا ہے کہ صحافیوں کو “مفادات کے ٹکراؤ سے بچنا چاہیے، خواہ وہ حقیقی ہوں یا محسوس کیے جا سکتے ہوں”۔ اور اس کی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ ریاستی ملازمت اس اصول کے منافی ہے۔

کینیڈا کی صحافتی تنظیمیں بھی اسی اصول کی پیروی کرتی ہیں۔ کینیڈین ایسوسی ایشن آف جرنلسٹس (CAJ) مکمل رکنیت صرف انہی ماہرین کو دیتی ہے جو ادارتی آزادی کے ساتھ کام کرتے ہوں۔ وزارتی یا تعلقات عامہ کے محکموں میں کام کرنے والے ریاستی ملازمین کو مسترد کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ریاستی پالیسی کے نمائندے ہوتے ہیں، نہ کہ اس کے ناقد یا غیرجانب دار ناظر اور ناقد۔

جنوبی ایشیا کے ممالک، جیسے بنگلہ دیش اور انڈیا، نے بھی اس اصول کو اپنے قانونی اور پیشہ ورانہ نظام کا حصہ بنایا ہے۔ بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (BFUJ) نے بھی PFUJ کی طرز پر سرکاری ملازمین کو اپنی بنیادی رکنیت سے باہر رکھا ہے۔ ان کے آئین کے مطابق، صرف وہی افراد رکن بن سکتے ہیں جو آزاد ایڈیٹوریل جرنلزم سے وابستہ ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے اہم بانیوں میں مشرقی پاکستان کے سینئر صحافی کے جی مصطفیٰ شامل تھے، جنھوں نے بعد میں بنگلہ دیش فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد بھی رکھی۔

انڈیا میں صورتِ حال نہایت واضح ہے: “ورکنگ جرنلسٹس اینڈ ادر نیوز پیپر ایمپلائز ایکٹ 1955” کے تحت صرف وہ افراد جو خبروں کے ایڈوٹوریل (ادارتی) کاموں میں براہِ راست شامل ہوں، انہیں ہی صحافی تسلیم کیا جاتا ہے۔ سرکاری تعلقاتِ عامہ کے محکموں، مثلاً پریس انفارمیشن بیورو میں کام کرنے والے افراد کو قانونی طور پر صحافی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ بھارت کی بڑی صحافتی یونینیں، جیسے انڈین جرنلسٹس یونین (IJU) اور نیشنل یونین آف جرنلسٹس-انڈیا (NUJ-I)، اس حد بندی کو سختی سے نافذ کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا جیسا باوقار ادارہ بھی کسی سرکاری ملازم کو رکنیت نہیں دیتا، خواہ وہ کتنا ہی بااثر لکھاری ہو یا بڑے نشریاتی ادارے سے وابستہ ہو۔

اس سلسلے میں ایک اور پہلو کی وضاحت ضروری ہے: شہری صحافت (citizen journalism)، ڈیجیٹل ایکٹیوزم (یوٹیوبرز، سوشل میڈیا انفلیونسرز وغیرہ)، اور خودمختار تبصرہ نگاری کا بڑھتا ہوا رجحان۔ آج کے دور میں بلاگز، یوٹیوب چینلز، سوشل میڈیا، اور علمی مضامین کے ذریعے بہت سے افراد—بشمول اساتذہ، سماجی کارکنان، اور کالم نگار—سیاسی و سماجی مسائل پر اہم تجزیے پیش کرتے ہیں۔ یہ کوششیں عوامی مباحثے کو وسعت دیتی ہیں اور کئی بار مین اسٹریم میڈیا سے زیادہ فکری گہرائی رکھتی ہیں۔

تاہم، یہ سرگرمیاں چاہے کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، انہیں پیشہ ورانہ صحافت کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا—نہ تو ٹریڈ یونین کے تناظر میں، نہ قانونی، اور نہ اخلاقی اعتبار سے—خاص طور پر جب یہ افراد ریاست سے تنخواہ لیتے ہوں یا سرکاری ملازم ہوں۔ ایک بیوروکریٹ، سرکاری افسر یا فوجی جو ریاست سے تنخواہ لیتا ہو، وہ چاہے بلاگ لکھے یا کالم، اسے نہ تو پریس کارڈ مل سکتا ہے، نہ یونین رکنیت، اور نہ ہی وہ قانونی تحفظات جو آزاد صحافیوں کو دیے جاتے ہیں۔

یہ فرق واضح اور قطعی ہے: بنیادی صحافت کا تقاضا ایڈیٹوریل آزادی ہے، صرف عوامی اظہار کافی نہیں۔ جب لکھنے والا خود ریاست کا ملازم ہو، تو صحافتی غیرجانب داری اور تنقیدی کردار لازماً متاثر ہوتا ہے۔

سرکاری یا کارپوریٹ ملازمین پر پابندیوں کے اخلاقی اور قانونی جواز کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں، بلکہ صحافت کی روح سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم تقاضا ایڈیٹوریل آزادی کا ہے۔ جمہوری تصوّر میں صحافت طاقت پر سوال اٹھانے، ناانصافی کو بے نقاب کرنے، اور حقائق کو کسی کی وفاداری سے پاک ہوکر بیان کرنے کے لیے وجود رکھتی ہے۔ جبکہ ریاستی ملازمین کا کام ریاستی پالیسی پر عمل درآمد یا اس کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اس کا تنقیدی جائزہ لینا نہیں۔ سرکاری ملازم اپنی تنخواہ اور دیگر مراعات کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے۔

مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کوئی صحافی ریاست پر مالی طور پر انحصار کرتا ہو، تو اس کے لیے حکومت کے خلاف غیرجانبدار رپورٹنگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، خاص طور پر سیاسی طور پر حساس یا جابرانہ ماحول میں۔ ایسی صحافت غیر معتبر ہو جاتی ہے، اور احتساب کی بنیاد کو مجروح کرتی ہے۔ قانون کی رو سے بھی، صحافیوں کو دیے جانے والے تحفظات—چاہے وہ آئینی ہوں، پریس کونسلز کی سطح پر ہوں، یا لیبر قوانین کے تحت—ان کی آزاد حیثیت پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ حقوق ان افراد کو نہیں دیے جا سکتے جو خود اس نظام کا حصہ ہوں جس کی نگرانی کرنا صحافت کا فرض ہے۔

عالمی سطح پر، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) بھی اسی مؤقف کو تقویت دیتی ہے۔ دنیا بھر کی جرنلسٹس یونینز کا سب سے بڑا وفاق ہونے کے ناتے، آئی ایف جے (IFJ) اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس کی رکن یونینز صرف مکمل وقتی، ایڈیٹوریل آزادی رکھنے والے صحافیوں پر مشتمل ہوں۔ وہ یونینیں جو سرکاری ملازمین، پبلک ریلیشنز ایجنٹس، یا نان ایڈیٹوریل ریاستی ملازمین کو شامل کرتی ہیں، IFJ کی رکنیت کی اہل نہیں۔ 1954 کا آئی ایف جے (IFJ) کا بانی منشور واضح کرتا ہے کہ صحافیوں کو آزادی سے کام کرنا چاہیے اور حکومت یا کارپوریٹ طاقتوں کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں، صحافی یونینوں یا خود کو آزاد کہلانے والے ایفیٹوریل عملے میں سرکاری ملازمین کی شمولیت محض ایک تکنیکی خلاف ورزی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی تضاد ہے۔

لہٰذا اگرچہ آج صحافت اعلیٰ اخلاقی معیارات کے لحاظ سے شدید بحران سے دوچار ہے، جہاں خبروں، پروپیگنڈا اور تفریح کے درمیان فرق مٹتا جا رہا ہے، تب بھی اس کا ڈھانچہ ادارتی خودمختاری کو تحفظ دینے پر قائم ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں دنیا بھر کی صحافتی برادری—چاہے وہ پاکستان ہو، انڈیا، برطانیہ، امریکہ یا آئی ایف جے (IFJ) جیسے عالمی ادارے—باہم مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔

اگرچہ دنیا بھر میں صحافت معیار اور آزادی کے اعتبار سے زوال کا شکار ہے، پھر بھی ایک اصول اپنی قانونی و اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے: کوئی سرکاری ملازم آزاد صحافی نہیں ہو سکتا۔ ان دونوں کرداروں کو خلط ملط کرنا نہ صرف ایک پیشہ ورانہ غلطی ہے، بلکہ جمہوری احتساب کے بنیادی ڈھانچے پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ جب اس اصول کا احترام کیا جاتا ہے تو صحافت اپنی سچائی کا کچھ نہ کچھ حصہ محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن جب اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو صحافت اپنا اصل مقام کھو دیتی ہے، اور صرف ریاست کا ایک حصہ بن کر رہ جاتی ہے—اور پھر وہ صحافت نہیں رہتی۔

ہمیں اُن صحافیوں کو یاد رکھنا ہوگا جنہوں نے آزادیٔ صحافت کے لیے قربانیاں دیں اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج جب صحافت پر ریاستی بیانیے، ایجنسیوں کے اثر و رسوخ اور مفاد پرست کمپرومائزڈ صحافیوں کا سایہ گہرا ہو چکا ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اُن سچے اور باوقار صحافیوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کریں جنہوں نے صحافتی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ منہاج برنا، نثار عثمانی، آئی ایچ راشد، ایم ضیاء الدین، طاہر مرزا، ظفر اقبال مرزا (زم)، صبیح الدین غوثی، اورنگ زیب، محمود زمان، عزیز مظہر، مسعود اللہ خان، خاور نعیم ہاشمی، ناصر زیدی، اقبال جعفری، چوہدری خادم حسین، سعید آسی، فوزیہ شاہد، انور سن رائے، ادریس بختیار اور عبدالحمید چھاپڑا جیسے کئی اور بااصول صحافی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مجھے اپنی صحافتی زندگی کے ہر مرحلے میں ان عظیم پیشرو صحافیوں کی تعلیم کی روشنی میں سرکاری ملازموں سے آزاد صحافت کو محفوظ رکھنے کے اصول کی حفاظت کرنے کا نہ صرف فکری احساس رہا ہے، بلکہ ایک گہری ذاتی احساسِ ذمہ داری—بلکہ احساسِ جرم—بھی رہا ہے۔ چاہے وہ لاہور میں “دی نیشن” کے بانی ارکان میں شامل ہونے کا دور ہو، یا بی بی سی ورلڈ سروس میں میری خدمات، یہ عزم ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس (PUJ) کے صدر، لاہور پریس کلب کے صدر، اور بی بی سی ورلڈ سروس کی نیشنل یونین آف جرنلسٹس (NUJ) کے صدر کے طور پر، میں نے اسی اصول کی وکالت کی۔

آج آزاد صحافت ایک بے مثال اور خطرناک گھیراؤ میں ہے — ایسا لگتا ہے جیسے موجودہ دور کے یاجوج ماجوج نئی شکلوں میں سامنے آ کر جمہوری اقدار کو نگلنے کے درپے ہیں، اور وہ دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ جمہوری ادارے اور آزاد عدلیہ جو آزاد صحافت سے نہ صرف مستفید ہوتی تھیں بلکہ اس تحفظ بھی دیتی تھیں آج خود کمپرومائزڈ ہیں۔ مگر ایسے تاریک اور مشکل وقت میں بھی ہمیں حتی الامکان اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑنا چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی کمزور یا غیر مؤثر کیوں نہ دکھائی دیں۔ تاریخ ہمیں ہماری دولت یا شہرت سے نہیں پرکھے گی، بلکہ یہ دیکھے گی کہ ہم نے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا یا وقتی فائدے کے لیے ان کا سودا کر لیا۔ یہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں