حکومت پنشن کا بوجھ اٹھالے تو ریلوے کو منافع بخش بنادوںگا: وزیر ریلوے کی لاہور پریس کلب میں گفتگو
لاہورپریس کلب کے پروگرام گیسٹ آف آنر میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے شرکت کی۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سینئر نائب صدر افضال طالب ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ ، فنانس سیکرٹری سالک نواز ، اراکین گورننگ باڈی سید بدر سعید، سرمد فرخ خواجہ ، محبوب احمد چوہدری اور الفت مغل نے معزز مہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انھیں لاہورپریس کلب آکر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، صحافی ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہمیں ان کی دل سے قدر ہے،لاہور پریس کلب پورے پاکستان کا بڑا پریس کلب ہے ادھر لوگوں نے اپنی زندگیاں دی ہیں، ہمیشہ سے تعلق صحافیوں سے اچھا رہا ہے۔
انھوں نے کہاکہ لاہور میں پیدا ہوا ،ایف سی کالج میں پڑھا طالب علمی میں سیاست شروع کی،جب ریلوے کا چارج سنبھالا تو کوئی بڑے دعویٰ نہیں کئے، پاکستان اب بدلا ہوا پاکستان ہے ،پاکستان کی دنیا میں جو عزت اب ہے وہ پہلے نہیں تھی، یہ کہتے ہوئے شرمانا نہیں چاہیے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی وجہ سے سر اٹھا کر دنیا میں گھوم رہے ہیں، ترکیہ ہو یا روس اوورسیز پاکستانیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ قید کے باوجود ملک کو برا نہیں کہا، میرے لیڈر نے بھی صبرو استقامت کے ساتھ جیل کاٹی، کچھ لوگ قید میں ہیں تو چیخنا چلانا اور گالی گلوچ دیئے جا ر ہے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ اس دشمن کو شکست دی جس کے پاس پندرہ جہاز تو ہمارے پاس ایک جہاز تھا۔ انھوں نے کہاکہ،بہترین خارجہ پالیسی سے دنیا نے پاکستان کی طاقت کو تسلیم کرلیا ہے بھارت زخم چاٹ رہا ہے،کچھ لوگوں کی خصلت میں ہے کہ ڈسنا ہی ڈسنا ہے، کچھ لوگ تو پاک بھارت جنگ کو نورا کشتی کہتے رہے،۔ان کا کہناتھاکہ آزادی اور غلامی کا تقابلی جائزہ کرنا ہے تو مقبوضہ و آزاد کشمیرمیں زندگی کو دیکھ لیں۔انھوں نے کہاکہ کوئی گندم پر کوئی گیس تو کوئی پانی پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ بھارت کا اس لئے شکریہ کہ آپ نے پوری قوم کو اکٹھاکر دیا،نور خان ائیر بیس پر میزائل گرا تو لوگ میزائل دیکھنے کے لیے بھاگتے رہے جبکہ ادھربھارت میں لوگ چیخ و پکار کرتے رہے، برے وقت میں چین ترکیہ آزربائیجان ملائیشیا اور بنگلہ دیش بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، وزیر اعظم نے کہاپہلگام واقعہ پر آزادانہ تحقیقات کروا لیں لیکن بھارت نے بزدلانہ موقف اپنایا،امریکہ نے خود کہہ دیا پانچ بھارتی جہاز گرے۔
انھوں نے مزید کہاکہ بلوچستان اورکے پی کے میں بھارتی پراکسی وار جاری ہے،حکومتی پالیسی پر افراط زر 38 سے زیرو فیصد پر آگئی ہے،معیشت کو سنبھالنے کےلئے سخت فیصلہ کرنے پڑے، بڑے بڑے مگرمچھوں کو پکڑیں جنہوں نے لوٹ مار کی،دس آئی پی پیز بند اور پندرہ کو بند کرنے لگے ہیں، راولپنڈی کے تین کراچی کے دو لاہور کے دو اسٹیشنز پر صفائی پر آﺅٹ سورس کرچکے ہیں،ریلوے میں فوڈ کوالٹی کو بہتر کیا ہے،کوالٹی ایجوکیشن کےلئے ریلوے کے چھ سکولوں کو آﺅٹ سورس کررہے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ جب تک ریلوے میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے ملکی معیشت میں بہتری نہیں آ سکتی،روہڑی کراچی ریلوے کی مین آرٹری ہے اس پر معاہدہ جلد کریں گے،مریم نواز کا شکرگزار ہوں جنہوں نے لاہور سے راولپنڈی کو دو سے ڈھائی گھنٹے سفر کےلئے ٹریک کو بہتر کرنے کا عملی اقدام اٹھایا ہے،مریم نواز نے پچاس ارب ریلوے کیلئے مختص کئے ہیں، لاہور ریلوے اسٹیشن پر مفت وائی فائی لگایا گیا ہے، کوئٹہ شہر خوبصورت ہوجائے گا ڈی ڈبلیو چلا دیں ،کوئلے کو پاور پلانٹ کےلئے ایک سو پانچ کلومیٹر کا ٹریک تیس اپریل تک مکمل ہوگا،کول پاور پلانٹ پر کوئلے کی بہترین ترسیل سے پندرہ روپے یونٹ سے ساڑھے چار روپے میں فی یونٹ ملے گا،چار ٹرینوں کے ریکوڈکٹ کیلئے 2028 کا ±معاہدہ ہوجائے گا ۔
انھوں نے بتایاکہ ہمارے پاس ویگنز کی کمی ہے ٹریک کو پہلے ٹھیک کریں گے، پہلی بار ریلوے اسٹیشن پر ایکسیلیٹر لگایا ہے انفارمیشن ڈیسک لگائے گئے ہیں، راولپنڈی میں ایک معاہدہ کیا ہے ٹرین میں صفائی ستھرائی ڈیڑھ گھنٹے میں کریں گے، بزنس ٹرین کا انتیس جولائی کو وزیر اعظم افتتاح کریں گے، سترہ کوچز میں وائی فائی موجود ہیں جو کھانا ڈائننگ کار میں دیا جائے گا وہ بہترین معیار کا ہوگا،ریلوے کی بیوروکریسی کو کہتا ہوں وہ کام کریں چھٹی نہیں ملے گی، ریلوے میں ریونیو کو بڑھایا ہے۔
انھوں نے کہاکہ ،وفاقی حکومت پنشن اور تنخواہوں کا بوجھ اٹھا لے تو ریلوے کو منافع بخش بنا دوں گا،ریلوے کو کسی مزدور نے نہیں لوٹا بلکہ ان لوگوں نے لوٹا جن کا نام نہیں لینا چاہتا،پورے ریلوے کو ڈیجیٹائز کررہے ہیں، سولہ بینک رابطہ ایپ کے ساتھ جوڑ دئیے ہیں ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کیوں نہیں ریلوے میں چل سکتا، تین سو اڑتالیس ریلوے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینیں لگانے جا رہے ہیں،ریلوے میں بڑے بڑے کام کرنے والے ہیں جو لوگ چھٹیوں پر گئے ہیں تو وہ ثبوت دیں اگر نیشنلیٹی کیلئے گئے تو واپس آئیں گے لانگ لیو والوں کو واپس بلائیں گے، تین ریلوے کی کمپنیوں کو بند کردیا ہے.
پاکستان ریلوے پاکستان کی شان ہے،جعفر ایکسپریس کو چلا کر دشمن کو بتا دیا کہ ڈرنے والے نہیں بولان اور جعفر ایکسپریس اب بھی چل رہی ہے،سپورٹس کو بھولا نہیں ترجیحات میں ہیں فٹبال کرکٹ اور ہاکی پر لائحہ عمل بنائیں گے،یکٹ کے لوگوں کو ایک ماہ کی تنخواہ دے کر فارغ کرسکتے ہیں لیکن ریلوے کے صفائی کے عملہ کو گھروں میں لگانے کا سوچ رہے ہیں،ستھرا پنجاب ریلوے کالونیز تک بڑھا دیں گے،سمگلنگ چوری ریلوے میں ہوتی رہی اب جو ٹکٹ کے بغیر سفر کرے گا کرنے اور کروانے والا جیل جائے گا،پانچ سو لوگوں کو ریلوے پولیس میں بھرتی کیا ہے،ریلوے میں محکمہ کی جیب سے سکینر ز میٹل ڈیٹیکٹر لائیں گے.
دنیا میں ریلوے کا سیٹ اپ آﺅٹ سورس ہے، ریلوے کی صفائی جو اب کروائی ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے معززمہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ ہماری خواہش تھی کہ حنیف عباسی صاحب لاہور آئیں تو پریس کلب میں بھی گیسٹ آف آنر پروگرام میں آئیں،حنیف عباسی نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اب محنت کے بعد وفاقی وزیر بنے، خواجہ سعد رفیق کے بعد ریلوے میں بہتری کا نعم البدل حنیف عباسی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمان کو کلب کی جانب سے یادگای شیلڈ اور پھول پیش کئے گئے۔

