زیارت: مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کو اغوا کاروں نے قتل کردیا

زیارت(نامہ نگار)بلوچستان کے ضلع زیارت سے دو ماہ قبل اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی اور ان کے بیٹے مستنصر بلال کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔ واقعے پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، حکومت بلوچستان نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق لیویز ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) زیارت محمد افضل باقی اور ان کے بیٹے مستنصر بلال کو اغوا کاروں نے قتل کردیا۔ دونوں کو دو ماہ قبل زیارت کے علاقے زیزری سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

چند روز قبل اغوا کاروں نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں محمد افضل اور ان کے بیٹے کو اغوا کاروں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی اپیل کرتے دیکھا گیا تھا۔

بلوچستان حکومت نے مغوی اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کی بازیابی کیلئے 5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر زیارت ذکااللہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں عوام، قبائلی عمائدین اور میڈیا نمائندگان سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اغوا کاروں سے متعلق معلومات فراہم کریں۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اطلاع دینے والوں کے نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود دونوں مغویوں کو بازیاب نہ کرایا جا سکا۔

زیارت میں اس افسوسناک واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی تیز کر دی ہے اور اغوا کاروں کی تلاش کیلئےسرچ آپریشن جاری ہے۔ حکومت بلوچستان نے قتل کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں