برازیلیا(رائٹرز/نمائندہ خصوصی)برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار میں رہنے کیلئے بغاوت کی سازش اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے جرم میں 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنادی۔ اس تاریخی فیصلے نے بولسونارو کو ملک کی تاریخ میں جمہوریت پر حملہ کرنے پر مجرم قرار پانے والا پہلا سابق صدر بنا دیا۔
پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے متفقہ طور پر بولسونارو کو پانچ سنگین جرائم میں مجرم قرار دیا جن میں مسلح مجرمانہ تنظیم میں حصہ لینا، بغاوت منظم کرنا، جمہوریت کا پرتشدد خاتمہ کرنے کی کوشش، سرکاری املاک کو نقصان اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔
جسٹس کارمن لوسیا نے فیصلے میں کہا کہ “یہ مقدمہ برازیل کے ماضی، حال اور مستقبل کا سامنا ہے” اور اس بات پر زور دیا کہ شواہد واضح کرتے ہیں کہ بولسونارو نے جمہوریت اور اداروں کو کمزور کرنے کی نیت سے کام کیا۔
“امریکی ردعمل اور کشیدگی”
یہ فیصلہ امریکا اور برازیل کے تعلقات میں تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلے کو “وِچ ہنٹ” قرار دیتے ہوئے بولسونارو کی تعریف کی اور برازیل پر محصولات بڑھا دیے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیصلے کو “ناانصافی” قرار دے کر خبردار کیا کہ امریکا اس کا جواب دے گا۔ برازیلی وزارتِ خارجہ نے روبیو کے بیان کو برازیل پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ برازیلی جمہوریت کو دھمکایا نہیں جا سکتا۔
“برازیلی حکومت کا ردعمل”
صدر لولا ڈا سلوا نے کہا کہ ان کی حکومت امریکی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوگی اور عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرے گی۔ سپریم کورٹ نے بولسونارو کے سات قریبی اتحادیوں کو بھی سزا سنائی، جن میں پانچ فوجی افسران شامل ہیں، جو 140 سال میں پہلی بار جمہوریت پر حملہ کرنے پر فوجی حکام کو دی جانے والی سزا ہے۔
بولسونارو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1980 کی دہائی میں ریو ڈی جینیرو سٹی کونسل سے کیا اور تقریباً تین دہائیوں تک کانگریس میں خدمات انجام دیں۔ 2018 میں وہ صدر منتخب ہوئے ، ان کی صدارت تنازعات کا شکار رہی، جن میں کووڈ-19 ویکسین پر شکوک، ایمیزون میں جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی کان کنی کی حمایت شامل تھی۔
2022 کے انتخابات میں لولا کے خلاف شکست کے بعد انہوں نے اقتدار میں رہنے کیلئےسخت گیر بیانات دیے اور کہا کہ ان کے مستقبل کے تین راستے ہیں: “گرفتاری، قتل یا فتح”۔ 2023 میں الیکشن کورٹ نے انہیں 2030 تک کسی بھی عوامی عہدے کیلئےنااہل قرار دے دیا تھا۔
بولسونارو کے وکلا نے فیصلے کو “سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے اپیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ ماہرین اسے برازیلی عدلیہ کے جمہوریت کے دفاع کیلئےتاریخی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

