پیرس(خصوصی نمائندہ)سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو مجرمانہ سازش کے الزام میں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے دیگر الزامات سے بریت دے دی ہے جبکہ سرکوزی نے اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سابق صدر نکولس سرکوزی، جنہوں نے 2007ء تا 2012ء تک فرانس کی صدارت کی، پر الزام تھا کہ انہوں نے لیبیا کے مرحوم رہنما معمر قذافی سے ملنے والے لاکھوں یورو کی غیر قانونی رقوم اپنی 2007ء کی انتخابی مہم میں استعمال کیں۔ بدلے میں، استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ سرکوزی نے قذافی کو مغربی ممالک میں اپنی منفی شہرت ختم کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔
پیرس کی کریمنل عدالت نے سرکوزی کو دیگر الزامات، جن میں بالواسطہ بدعنوانی اور غیر قانونی انتخابی فنڈنگ شامل تھے، سے بری کر دیا۔ عدالت نے انہیں ایک لاکھ یورو جرمانہ ادا کرنے اور پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ جج نتھالی گاوارینو کے مطابق، سرکوزی نے اپنے قریبی ساتھیوں کو لیبیائی حکام سے رابطہ کرنے کی اجازت دی تاکہ مالی مدد حاصل کی جا سکے، مگر براہ راست غیر قانونی انتخابی فنڈنگ کے ثبوت ناکافی تھے۔
70 سالہ سابق صدر نے سماعت کے بعد کہا: “یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی سنگین ہے۔” فیصلے کے باوجود، وہ اپیل دائر کرنے کے باوجود جیل جائیں گے۔ یہ کسی سابق فرانسیسی صدر کے لیے پہلی بار ہوگا۔
یہ تحقیقات 2013ء میں اس وقت شروع ہوئیں جب قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے الزام لگایا کہ سرکوزی نے ان کے والد کے فنڈز سے لاکھوں یورو لیے۔ 2014ء میں لبنانی بزنس مین زیاد تقی الدین نے بھی تحریری ثبوت فراہم کیے کہ سرکوزی کی انتخابی مہم کو طرابلس کی طرف سے 50 ملین یورو کی فنڈنگ ملی۔
اس مقدمے میں دیگر ملزمان میں سابق وزرائے داخلہ کلود گینت اور بریس ہورتفیو شامل تھے۔ عدالت نے گینت کو کرپشن سمیت دیگر الزامات میں مجرم قرار دیا جبکہ ہورتفیو کو مجرمانہ سازش میں ملوث پایا۔
نکولس سرکوزی کی اہلیہ کارلا برونی سرکوزی پر بھی گزشتہ سال قذافی کیس سے متعلق شواہد چھپانے کے الزامات عائد کیے گئے، جنہیں انہوں نے مسترد کیا۔
سرکوزی کو 2012ء کے انتخابات ہارنے کے بعد متعدد فوجداری تحقیقات کا سامنا ہے۔ فروری 2024 کے فیصلے کیخلاف انہوں نے اپیل کی ہے، اور 2021ء میں رشوت دینے کی کوشش کے الزام میں بھی قصوروار پائے گئے تھے، مگر قید کی سزا کو بعد میں الیکٹرانک ٹیگ کے ذریعے گھر پر مکمل کرنے کی اجازت ملی۔یہ فیصلہ فرانسیسی سیاسی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے، کیونکہ کسی سابق صدر کو جیل بھیجنے کا واقعہ پہلی بار پیش آیا ہے۔

