ٹوکیو (اے ایف پی) – جاپان نے اپنی پہلی خاتون وزیرِاعظم دیکھ لی ہے۔ چین مخالف اور سماجی قدامت پسند سیاستدان سانائے تاکائچی نے آخری لمحات میں ایک اتحادی معاہدہ کر کے وزارتِ عظمیٰ حاصل کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاکائچی گزشتہ پانچ سالوں میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے والی پانچویں شخصیت ہیں اور وہ ایک اقلیتی حکومت کی قیادت کرینگی جسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جاپان کا طے شدہ دورہ بھی شامل ہے۔
پارلیمان نے منگل کو تاکائچی کو وزیرِاعظم منتخب کیا، جو ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ باضابطہ طور پر شہنشاہ سے ملاقات کے بعد عہدہ سنبھالیں گی۔
سانائے تاکائچی نے 4 اکتوبر کو حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سربراہ منتخب ہوئیں، جس کے بعد کومیتو پارٹی نے چند دن بعد اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاکائچی نے اصلاحات کی حامی دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی (جے آئی پی) کے ساتھ نیا اتحاد قائم کیا، جس کے تحت حکومتی منصوبے اور اصلاحات پر اتفاق کیا گیا۔
تاکائچی نے وعدہ کیا کہ وہ جاپان کی معیشت مضبوط کرینگی اور خواتین کی تعداد اپنی کابینہ میں ’نارڈک ممالک‘ کے معیار کے قریب رکھیں گی۔ ممکنہ خواتین وزرا میں ساتسوکی کاتایاما (وزیرِمالیات) اور امریکی نژاد کیمی اونودا (وزیرِمعاشی سلامتی) شامل ہو سکتی ہیں۔
64 سالہ تاکائچی خواتین کی صحت کے مسائل پر توجہ دینے کی خواہاں ہیں، مگر شادی شدہ جوڑوں کے ایک ہی خاندانی نام استعمال کرنے کے قانون میں ترمیم کی مخالف اور شاہی خاندان میں مردانہ جانشینی کی حامی ہیں۔
ان کیلئے جاپان کی بڑھتی عمر والی آبادی، سست معیشت، ایل ڈی پی کی ساکھ کی بحالی اور امریکی صدر کے ساتھ تجارتی مسائل سب بڑے چیلنج ہیں۔ تاکائچی کی سخت مالیاتی پالیسی اور حکومتی اخراجات میں اضافہ سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی ’ایبینامکس‘ پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ ان کی کامیابی کے بعد جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
چین کے حوالے سے سخت موقف کے باعث وہ ’چائنا ہاک‘ کہلاتی رہی ہیں مگر وزارتِ عظمیٰ کے بعد ان کا لہجہ نرم ہوا اور گزشتہ ہفتے جنگی یادگار ’یاسوکونی مزار‘ کی تقریب میں وہ شریک نہیں ہوئیں۔تاکائچی پر دباؤ ہوگا کہ وہ ایل ڈی پی کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کریں، جبکہ چھوٹی جماعتیں جیسے پاپولسٹ سینسیٹو پارٹی عوامی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

